مجوزہ ترمیمی قانون سازی میں چیئرمین نیب کو اہم اختیارات مل گئے

قومی احتساب بیورو ترمیمی بل کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔

قومی احتساب بیورو(نیب) سے متعلق مجوزہ ترمیمی قانون سازی میں چیئرمین کو بڑا اختیار دے دیا گیا۔

قومی احتساب بیورو ترمیمی بل کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔

ترمیمی بل میں پیش کی گئی تجاویز کے مطابق سلطانی گواہ کیس سے متعلق شواہد اور مکمل حقائق فراہم کرے گا اور ایسے ملزم کو چیئرمین نیب انکوائری، انویسٹی گیشن یا دوران ٹرائل کیس بھی مرحلے میں معافی دینے کے مجاز ہونگے، کسی بھی جرم میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث شخص کو مل سکے گی البتہ ایسے ملزم پر مجسٹریٹ کی موجودگی میں دیگرملزمان جرح کرسکیں گے۔معافی پانے والا ملزم 10 سال کیلئے کسی بھی عوامی یا سرکاری عہدے کیلئے نااہل بھی ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیرقانون نے بتایا ہے کہ نیب کی جانب سے گرفتاری کا اختیار چیئرمین سے لےکر باقاعدہ طریقہ کار بنایا گیا ہے اور اب ریٹائرڈ ججز کو نیب میں تعینات نہیں کیا جا سکے گا۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے نیب اعلامیہ جاری کرکے ملزم کو بدنام کرتا تھا تاہم اب نیب تفتیش کے دوران کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کرسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران جھوٹے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں البتہ نیب کو سیاسی مقاصد اور کردار کشی کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وزیرقانون کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے ڈیڈلاک آجاتے تھے تاہم اب چیئرمین نیب کا عہدہ ناقابل توسیع ہوگا اورموجودہ چیئرمین 2 جون کو ویسے بھی فارغ ہوجائیں گے اور نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ہوئی ہے۔

NAB

Tabool ads will show in this div