خون خرابے کےخدشے کےباعث ڈی چوک میں دھرنا نہیں دیا، عمران خان

حکومت کو انتخابات کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کا ٹائم فریم بتانا ہوگا

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے بتایا ہے کہ خون خرابے کےخدشے کے پیش نظر اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا نہیں دیا تھا۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتےہوئے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا کہ حکومت کو 6 دن دے رہے ہیں جس میں ان کوانتخابات کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کا ٹائم فریم بتانا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ 6 روز بعد دوبارہ حکومت کے خلاف تیاریاں کرکے دوبارہ نکلیں گے، اندازہ نہیں تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایسی پرتشدد صورتحال پیش آئے گی،ہم يہ سمجھے تھے کہ اس فيصلے کے بعدرکاوٹيں ہٹادی جائيں گی۔

عمران خان نے کہا کہ 30سال سےجولوگ ملک کوکھارہےتھےان کومسلط کیاگیا اوریہ فیصلہ کیا ہے کہ پوری زندگی قوم کے لیے جدوجہد کروں گا۔

آزادی مارچ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کاحق ہےوہ حق بھی نہ دیاجائے؟۔ رات کے2اور3بجےپولیس والےلوگوں کےگھروں ميں گھسے،حالانکہ سپريم کورٹ نےحکم دیا تھا کہ يہ چھاپےنہيں ہونےچاہيں۔

انھوں نے کہا کہ چن چن کر لوگوں کو پنجاب پوليس ميں بٹھايا گيا اور چن چن کر لوگوں کو پنجاب پوليس ميں تعينات کيا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ میڈیا پر یہ پروپيگنڈا کيا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کوئی انتشار کرنے جارہی تھی اس ہی لئے عوام پرشیلنگ کی گئی۔

چئیرمین تحریک انصاف نے واضح کیا کہ میری کسی سےکوئی ڈیل نہیں ہوئی ، صرف یہ سوچا تھا کہ ملک کو نقصان نہ ہو، اگر اس دن (ڈی چوک ) میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہوجاتا، کوئی يہ نہ سمجھے کہ ہماری کوئی مجبوری تھی۔ عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ حکومت کی غلط فہمی ہے کہ ہم ان سے مذاکرات کرليں گے، ان کی غلط فہمی ہے کہ ہم امپورٹڈ حکومت کو تسليم کرليں گے۔

عمران خان نے بتایا کہ تحریک انصاف کے6 روز بعد احتجاج بھرپور تیاری سے کریں گے،کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے،صرف الیکشن چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے چئیرمین نے کہا کہ میں نےچیف جسٹس کو خط لکھاہےکہ صورتحال واضح کریں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اوورسيزپاکستانيوں سےووٹنگ کاحق ليناغيرآئينی ہے، آئی ايم ايف کے دباؤ ميں آ کرانھوں نے 30روپے پٹرول پر بڑھاياہے، ایسے اقدامات سے عوام اب بغاوت کی طرف جائے گی۔

ووٹنگ سے متعلق انھوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ دینا ان کا بنیادی حق ہے اور اس پابندی پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے،یہ غیرقانونی ہے۔

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div