وزیرستان میں دو بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

متاثرہ بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، اسلام آباد کی جانب سے رواں ماہ وزیرستان میں دو پولیو وائرس کے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔

این آئی ایچ کے مطابق نیشنل پولیو لیبارٹری کو دو نمونے موصول ہوئے تھے، جن کے تجزیئے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

بچوں کا تعلق شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی سے ہے۔ متاثرہ بچی پر 10 مئی، جب کہ لڑکے پر 11 مئی 2022 کو فالج کا اثر ہوا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا پولیو کا کیس ہے جو جنوبی وزیرستان سے رپورٹ ہوا ہے جس کے بعد رواں برس پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد چھے ہوگئی ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچوں کے والدین نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

رواں سال عالمی سطح پر پولیو کے کیسز کی تعداد مقامی ممالک میں سات ہوگئی ہے۔

وزیرستان کے مزید 2 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق پر وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ پولیو وائرس نے ان بچوں کو عمر بھر کیلئے معذوری کردیا، میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

وزیر صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے پولیو کے خاتمے کا پختہ عزم کر رکھا ہے، پولیو کے خاتمے کیلئے مربوط اور مؤثر حکمت عملی جاری ہے۔

قادر پٹیل نے مزید کہا کہ دنیا میں پولیو سے متاثرہ 2 ممالک پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت 23 سے 27 مئی تک پولیو مہم ہورہی ہے، جس میں دونوں ممالک میں کروڑوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جارہے ہیں۔

WAZIRISTAN.

POLIO.

NIH.

Tabool ads will show in this div