نیب قوانین آمر نے سیاسی انجینئرنگ کیلئے متعارف کروائے، وزیرقانون

پیپلزپارٹی پیٹریاٹ گروپ بھی بنوایا گیا

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ نیب قوانین ایک آمر نے متعارف کرائے اور سب کو معلوم ہے کہ کس طرح نیب سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا گیا اور پیپلزپارٹی پیٹریاٹ گروپ بھی بنوایا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے بتایا کہ 30 دن میں کرپشن کیس کا فیصلہ کرنا منافقانہ شق تھی۔

انھوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے گرفتاری کا اختیار چیئرمین سے لےکر باقاعدہ طریقہ کار بنایا گیا ہے اور اب ریٹائرڈ ججز کو نیب میں تعینات نہیں کیا جا سکے گا۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے نیب اعلامیہ جاری کرکے ملزم کو بدنام کرتا تھا تاہم اب نیب تفتیش کے دوران کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کرسکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران جھوٹے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں البتہ نیب کو سیاسی مقاصد اور کردار کشی کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

وزیرقانون کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے ڈیڈلاک آجاتے تھے تاہم اب چیئرمین نیب کا عہدہ ناقابل توسیع ہوگا اورموجودہ چیئرمین 2 جون کو ویسے بھی فارغ ہوجائیں گے اور نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ہوئی ہے۔

وزیرقانون نے بتایا کہ نیب قانون میں ضمانت نہ ہونا بنیادی حقوق کی خلاف تھا، جب قتل ، زنا اوراغوا برائے تاوان کیس میں ضمانت تھی لیکن نیب میں نہیں تھی۔

ریمانڈ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 90 دن کا ریمانڈ دہشت گردوں کے کیسز کیلئے تھا، فدائین کوڈی بریف کرنے کیلئے 90 دن کا ریمانڈ رکھا گیا تھا تاہم دنیا میں کہیں بھی 90 دن کا ریمانڈ نہیں تھا اور اب ریمانڈ کم کرکے 14 دن کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیرقانون نے مزید بتایا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا معاملہ الیکشن کمیشن پرچھوڑا ہے اور الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ جس الیکشن میں چاہیں مشین استعمال کر سکتے ہیں تاہم الیکشن کمیشن درجہ بدریہ پائلٹ پراجیکٹ کرکے مشین استعمال کرسکتا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ سمندرپار پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم نہیں کیا۔وزیرقانون نے کہا کہ تحریک انصاف کو اگر اوورسیز پاکستانیوں کا درد ہے تو اسمبلی میں آئے،چاہتے ہیں کہ اسمبلی میں اوورسیز کیلئے نشستیں مختص کریں۔

NAB court

Tabool ads will show in this div