وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابتدائی مرحلے میں ناکام

11 اراکین بلوچستان اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی جبکہ تحریک پیش کرنے کے لیے 13 ارکان کی حمایت درکار تھی

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابتدائی مرحلے میں ناکام ہو گئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہوگئے ، جمعرات کو ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیرصدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پانچ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو رکن بلوچستان اسمبلی میر ظہور احمد بلیدی نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

11 اراکین بلوچستان اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی جبکہ تحریک پیش کرنے کے لیے 13 ارکان کی حمایت درکار تھی ، جام کمال کا ہم خیال گروپ مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکا۔ ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے پر قرارداد پیش کرنے کی کارروائی مسترد کر دی گئی۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعلی جام کمال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب یا ناکام بنانے کا مقصد نہیں تھا، پہلے سے ہی معلوم تھا کہ ہمارا نمبر گیم پورا نہیں ہے، ہمارا مقصد بہت سی چیزوں کو سامنے لانا تھا ، موجودہ حکومت کے سامنے کھڑا ہوا آسان بات نہیں ہے۔ وفاق نے جو ہم سے وعدہ کیا تو وہ وفا نہیں کیا، ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کرکے مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں جام کمال کا کہنا تھا کہ میں باپ پارٹی کا صدر ہوں، خلاف ورزی کرنے والے ممبران کو شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

سابق صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت بڑے پیمانے پر کرپشن کررہی ہے، نوکریاں فروخت کی جارہی ہیں ، ٹرانسفر پوسٹنگ کرکے بھاری رقوم وصول کی جاتی ہے ، ٹھیکے داروں کی حکومت کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں ، بلوچستان کے وسائل لوٹنے کے لیے ٹھیکے داروں نے حکومت کو تبدیل کیا ہم ان ٹھیکے داروں کا بتانا چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ضمیر فروخت نہیں ہے۔

دوسری جانب حکومتی رکن میر اسد بلوچ نے جام کمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جام کمال تو کمال کا بندہ تھا بے کمال کیسا ہوگیا، وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں بلوچستان ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کرے گی ، جام کمال کے گروپ نے بجٹ سے پہلے حکومت کو متاثر کرنے کی کوشش کی ، لیکن ارکان اسمبلی کی اکثریت وزیراعلیٰ کے ساتھ تھی۔

اس سے قبل ایوان میں تحریک عدم اعتماد کے محرک سردار یار محمد رند اور صوبائی وزیر اسد بلوچ میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

واضح رہے 18 مئی کو وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کے خلاف تحریک پر 14 اراکین اسمبلی نے دستخط کیے تھے۔ جن میں سے مبین خلجی گذشتہ شب قدوس بزنجو کی حمایت کا اعلان کرچکے تھے۔

cm balochistan

Tabool ads will show in this div