حکومت کوعمران خان کےخلاف مقدمہ درج کرواناچاہیے،مريم نواز

شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ سےتعزیب کے بعد میڈیا سے گفتگو
May 26, 2022

نائب صدر ن لیگ مریم نواز کا کہنا ہے کہ سپريم کورٹ سے درخواست ہے کہ اپنے فيصلے پرنظرثانی کريں کیونکہ یہ جو ہوا اس کے پیچھے تحریک انصاف کے رہنماوں کے بیانات تھے۔

لاہور میں شہید پولیس کانسٹیبل کمال کے اہل خانہ سےتعزیب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ سپريم کورٹ کے فيصلے کے بعد ان کو اجازت ملی مگر انکے ليڈرز نے کہا تھايہ خونی انقلاب ہوگا،انکا ايجنڈا انتشار تھا۔

مريم نواز کا کہنا تھا کہ سياست ميں مذہب کا استعمال گناہ ہے مگر کل مذہب کا ٹچ دينے کا ڈرامہ پوری قوم نے ديکھا۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران پاکستان بھر سے20 ہزار افراد بھی جمع نہيں کرسکا، انقلاب آگيا ليکن بندے نہيں آئے ، لوگوں نے آزادی مارچ کو بربادی مارچ بنا کر دوبارہ پشاور بھيج ديا۔

مريم نواز کا کہنا تھا کہ کل خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل کو بےدريغ استعمال کياگيا، حکومت کوعمران خان کےخلاف مقدمہ درج کرواناچاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حقيقی آزادی کا سفراپنےگھرسے شروع ہوتا ہے ، اپنے بچوں کو لندن کی ٹھنڈی فضاؤں ميں رکھاہواہے، آزادی دلانی ہے تواپنے بچوں کو لندن سے واپس بلاو۔

مريم نواز کا کہنا تھا کہ يہ انقلاب نہيں انتشار تھا ، لوگوں کے بچے ڈنڈے کھاتے رہے يہ ہيلی کاپٹر سے نيچے نہيں اترے۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ کانسٹيبل کمال کو پی ٹی آئی رکن نے گولی مارکر شہيد کرديا تھا، جعلی انقلاب کی خاطر ان بچوں کو يتيمی کے دلدل ميں دھکيل ديا، نوجوانوں کو اپنے اقتدار کےلئے ايندھن بنانا ختم کرو۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ لوگ آپ کے جعلی انقلاب کو پہنچان گئے ہيں ، لوگ آپ کے جھوٹ اور جعلی خط کو پہچان گئے ہيں۔

PML N

MARYAM NAWAZ

Tabool ads will show in this div