ای وی ایم اور اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم

ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، وفاقی وزیر قانون

قومی اسمبلی نے انتخابات ترمیمی بل 2022 منظور کرلیا ہے جس کیے بعد ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم ہوگئی ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کے دوران انتخابات ترمیمی بل 2022 پیش کیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے دور میں تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے قانون سازی کی گئی لیکن پی ٹی آئی نے انتخابی اصلاحات کے نام پر متنازعہ ترامیم پیش کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ای وی ایم مشین کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو اہمیت ہی نہیں دی گئی، الیکشن کمیشن نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ای وی ایم کے ذریعے الیکشن کرانا مشکل ہے، ضمنی الیکشن میں اس کا تجربہ کیا جاسکتا ہے مگر عام انتخابات میں نہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے انتخابی اصلاحات سے متعلق قانون سازی سے متعلق بل کو اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کراکر سینیٹ کمیٹی کو بھجوایا گیا ، سینیٹ کمیٹی نے اسے کثرت رائے سے مسترد کیا تو اسے مشترکہ اجلاس سے منظور کرایا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے بارے میں افواہ ہے کہ شاید ہم اوورسیز کے ووٹ کے حق میں نہیں ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کو کوئی بھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں کرسکتا، ہم ای وی ایم اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں، ہم صرف ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

قائد حزب اختلاف کا موقف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجا ریاض نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بعض مقامات پر انٹرنیٹ نہیں تو ایسی صورت میں ای وی ایم بھی نہیں چل سکتی،اس لیے ایسی ترامیم ہونی چاہیے جو ملک کے مفاد میں ہو۔

صابر قائمخانی

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی صابر قائم خانی نے بل پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط الیکشن کمیشن اورقانون کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔

انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

بل پر اعتراض کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے، اس میں صرف وہ شامل نہیں جو ایوان کے باہر درختوں اور املاک کو آگ لگا رہے ہیں۔

بعد ازاں ایوان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کرلیا، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کی جانے والی تمام آئینی ترامیم ختم ہوگئی ہیں۔

election reforms

election2023

Tabool ads will show in this div