ہائیکورٹ کا حراست میں لئے گئے افراد ضمانتی بانڈز لے کر رہا کرنے کاحکم

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پیش

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کو16 ایم پی او کے تحت حفاظتی حراست میں لئے گئے تمام 70 افراد کوضمانتی بانڈز لے کررہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہراساں اور گرفتار کرنے کے خلاف درخواست پرسماعت ہوئی۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈپٹی کمشنرنےعدالت کو بتایا کہ عمومی گرفتاریاں نہیں کیں اور ایجنسیزکی رپورٹ پران افراد کوپکڑا گیا تھا۔اطلاعات تھیں کہ مظاہرین میٹرو اسٹیشن، سرکاری گاڑیوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ ایک رپورٹ آئی تھی کہ بارہ کہو میں لوگوں کے پاس اسلحہ ہے اور 70کے قریب افراد کو 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جب کوئی عمل ہی نہ ہوا ہو تو آپ کیسے گرفتار کرسکتے ہیں؟ کسی سے متعلق میٹرواسٹیشن کونقصان پہنچانے کی رپورٹ ہے تو بانڈ لیں، ان 70 افراد میں سے ابھی تک کسی نے کوئی عمل کیا تھا؟۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ہم نےحفاظتی اقدام کے طور پر یہ سب کچھ کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام گرفتار افراد کے کیسز پر نظرثانی کی ہدایت کی اور ریمارکس دئیے کہ اگر کسی کے خلاف کوئی اطلاعات ہوں توعدالت کو آگاہ کریں اور گرفتار افراد سے شیورٹی بانڈ لے کران کو چھوڑ دیں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ جیسا عدالت کہتی ہے ہم ویسا ہی کرلیتے ہیں۔

ISLAMABAD HIGH COURT

Tabool ads will show in this div