حریت رہنماء یاسین ملک کو عمر قید کی سزا

یاسین ملک پر دہشت گردی کی سازش سمیت دیگر الزامات لگائے گئے تھے

بھارت کی نام نہاد عدالت نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنادی۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی خصوصی عدالت نے حریت رہنماء یاسین ملک کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔

سماعت کے دوران این آئی اے نے یاسین ملک کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم عدالت نے کشمیری رہنماء کو عمر قید کی سزا سنائی۔

سزا کے فیصلے سے قبل یاسین ملک کا کہنا تھا کہ انصاف کی بھیک نہیں مانگوں گا، جو سزا دینی ہے دیدیں۔

یاسین ملک پر بھارت کے متنازع ترین قانون یو اے پی اے کی دفعات 16، 17، 18 اور 20 کے تحت دہشت گردی کی کارروائیاں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کے لیے فنڈز جمع کرنے، دہشت گردی کی سازش کرنے اور دہشت گرد گروہ کا رکن ہونا الزامات لگائے گئے تھے۔

اس کے علاوہ یاسین ملک کو تعزیرات ہند کی دفعات 120 اور 124 کے تحت مجرمانہ سازش اور ملک سےغداری کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ یاسین ملک نے دہشت گردی اور دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کے معاملے میں تمام جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو چیلنج نہیں کرنا چاہتا۔

19 مئی کو بھارت کی کنیگرو عدالت نے یاسینم ملک کو ان پر لگائے گئے تمام الزامات میں مجرم قرتار دے دیا تھا۔

دوسری جانب بھارتی کینگرو عدالت کی طرف سے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں مجرم قراردیے جانے کے خلاف مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے،

عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کو دبانے کے لیے بھارتی فوجیوں، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروںں کی بڑی نفری تعینات ہے جب کہ تاجروں، دکانداروں اور ٹرانسپورٹرز کو احتجاج کا حصہ نہ بننے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک کو جمعرات کے روز بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی عدالت نے 2017 میں درج کئے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔

kashmir issue

indian

Tabool ads will show in this div