شیریں مزاری کی حراست واضح طور پر سیاسی انتقام ہے، قائمہ کمیٹی

جوڈیشل کمیشن میں کیس کادفاع کرنے کیلئے تیار ہیں، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے شیریں مزاری کی حراست کو متفقہ طور پر سیاسی انتقام قرار دیدیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا ہنگامی اجلاس منگل کو سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا جس میں شیریں مزاری کی حالیہ گرفتاری کا نوٹس لیا گیا۔

منگل کو سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کو آئی سی ٹی پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ اسلام آباد پولیس نے صرف محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی درخواست پر شیریں مزاری کی گرفتاری میں مدد فراہم کی جو چیف کمشنر اسلام آباد پولیس کے دفتر سے موصول ہوئی۔

ایس پی سٹی اسلام آباد کامران خان نے اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس کے محدود کردار پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

وزارت داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی درخواست براہ راست اسلام آباد انتظامیہ کو موصول ہوئی تھی اور وزارت داخلہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی سمری وزارت کی جانب سے بھیج دی گئی ہے۔

ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن آئی سی ٹی نے بھی میٹنگ میں شرکت کی، انہوں نے بتایا کہ ان کے دفتر کو محکمہ داخلہ، حکومت پنجاب کی جانب سے شیریں مزاری کی گرفتاری کیلئے ایک خط موصول ہوا، انہوں نے اس خط کو پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘‘قانون کے مطابق آگے بڑھیں’’۔

ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب نے کمیٹی کو بتایا کہ شیریں مزاری پر 310 خاندانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام ہے اور یہ طریقۂ کار 1898ء میں طے کیا گیا تھا، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے واضح طور پر کہا کہ محکمہ جوڈیشل کمیشن میں کیس کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہے، جو اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیا گیا۔

کمیٹی کا متفقہ مؤقف تھا کہ شیریں مزاری کی نظر بندی واضح طور پر سیاسی انتقام ہے۔ اس سے قبل قائمہ کمیٹی نے سینیٹر ولید اقبال کی لاہور میں رہائش گاہ پر بلا جواز چھاپے کی بھی مذمت کی۔

قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید، محمد طاہر بزنجو، گردیپ سنگھ، سیمی ایزدی، فلک ناز، قراۃالعین مری اور سینیٹر فیصل سبزواری، رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری، وزارت انسانی حقوق اور وزارت داخلہ کے سینئر افسران، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریٹر آئی سی ٹی، آئی جی پولیس پنجاب کا نمائندہ، ایس پی سٹی اسلام آباد اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور نے شرکت کی۔

human rights

IMRAN KHAN

SHIREEN MAZARI

Tabool ads will show in this div