پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا مونکی پاکس کے پھیلاؤ پر اظہار تشویش

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مونکی پاکس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن دنیا کے...
May 24, 2022

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مونکی پاکس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن دنیا کے پندرہ ممالک میں مونکی پاکس کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کی ہے جہاں یہ بیماری عام طور پر نہیں پائی جاتی، یہ وائرس وسطی اور مغربی افریقہ کے دور دراز علاقوں میں سب سے زیادہ عام ہے، جن ممالک میں مونکی پوکس کے کیسز سامنے آئے ہیں ان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، بیلجیئم، اٹلی، پرتگال، اسپین، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، سویڈن، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، اسرائیل اور آسٹریا شامل ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ مونکی پاکس کوویڈ 19 کی طرح مہلک نہیں ہے، اس لئے لوگوں کو اس وائرس سے گھبرانا نہیں چاہئے، بیماری کے دوران جسم پر نکلنے والے دانے ختم ہونے سے پہلے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہوسکتے ہیں لیکن انفیکشن عام طور پر 14 سے 21 دن میں خود ہی ختم ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ مونکی پوکس کی علامات چیچک سے ملتی جلتی لیکن ہلکی ہوتی ہیں، مونکی پوکس کی ابتدائی علامات میں فلو جیسی علامات شامل ہیں، ان علامات میں بخار، سردی لگنا، سر درد، پٹھوں میں درد، تھکاوٹ، مدافعتی گلٹیوں کی سوجن اور ہاتھوں اور چہرے پر چکن پاکس جیسے پانی والے دانوں کا نمودار ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مونکی پوکس اس وقت پھیلتا ہے جب کوئی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوتا ہے، یہ ڈراپ لیٹ انفیکشن ہے اور پھٹی ہوئی جلد، سانس کی نالی، آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ انفیکشن متاثرہ شخص کے بستر یا تولیے کے مشترکہ استعمال سے بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان دنیا کے دوسرے ممالک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے خود کو تیار اور چوکس رکھنا چاہئے اور ملک میں مونکی پاکس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے فوری طور پر درج ذیل حفاظتی اقدامات فوری طور پر کئے جائیں۔

حفاظتی اقدامات

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ حکومت کو ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور ملک کے تمام سرحدی داخلوں پر ایسی سہولیات کو بہتر بنائے جن سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکیننگ کرکے اس بیماری سے متاثرہ افراد کی نشاندہی کی جاسکے۔ ایئر پورٹس اور ملک کے دیگر تمام داخلی مقامات پر صرف متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کیلئے مونکی پوکس کی تشخیص کیلئے اینٹیجن ٹیسٹ شروع کیا جائے، مونکی پوکس کیلئے بھی حکومتی سطح پر وہی ایس او پیز نافذ کیے جائیں جو کوویڈ19 کیلئے اختیار کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا جائے، ملک کے داخلی مقامات پر نگرانی کے دوران بیرون ملک سے آنے والے مونکی پوکس کے متاثرہ مسافروں کو آئسولیشن سینٹرز میں رکھا جائے۔

عوام کیلئے احتیاطی تدابیر

ڈاکٹر قیصر سجاد نے عوام سے گزارش کی کہ مونکی پاکس سے بچنے کیلئے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، مناسب وقفوں سے اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں یا سینیٹائز کریں، ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں، اپنا بستر یا تولیہ کسی دوسرے فرد سے شیئر نہ کریں۔

ڈاکر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ مونکی پاکس کوویڈ 19 کی طرح مہلک نہیں ہے، اس لئے لوگوں کو اس وائرس سے گھبرانا نہیں چاہئے، بیماری کے دوران جسم پر نکلنے والے دانے ختم ہونے سے پہلے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہوسکتے ہیں لیکن انفیکشن عام طور پر 14 سے 21 دن میں خود ہی ختم ہو جاتا ہے، اس کے باوجود ہم سب پر زور دیتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل کریں، ہم حکومت اور دیگر تمام صحت کی تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مونکی پوکس کے حوالے سے عوام میں آگاہی فراہم کرنے کیلئے آگے آئیں۔

پاکستان

PMA

MONKEY POX

Tabool ads will show in this div