کوئی تشدد یا اشتعال انگیزی ہوئی توقانون حرکت میں آئیگا،شہباز

ہرغیرقانونی کام کاراستہ روکاجائےگا

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا، جب کہ تشدد اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے والوں سے قانونی طریقے سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا، جب کہ تشدد اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے والوں سے قانونی طریقے سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت امن ا امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں 24 مئی بروز منگل کو ہوا۔

اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر پارٹی اراکین کو اعتماد میں لیا گیا۔ اجلاس میں ن لیگ کی جانب سے قومی امور کے حوالے سے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور و خوص کیا گیا۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر صلاح و مشورہ بھی کیا گیا، جب کہ ن لیگ کے اراکین کی تجاویز و آرا پر بھی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے امن و امان کی صورت حال اور اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں احسن اقبال، مریم اورنگزیب، خرم دستگیر، اعظم نذیر تارڑ اور ریاض پیرزادہ شریک ہوئے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر غیرقانونی کام کا راستہ روکا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ امن وامان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مفاد عامہ کیلئے تمام راستے کھلے رکھیں گے، کسی قسم کے تشدد یا اشتعال انگیزی پر قانون حرکت میں آئے گا، جب کہ دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من وعن عمل درآمد ہوگا۔

اجلاس کے شرکا سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈے معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں، ایسے دھرنوں سے معیشت خراب اور دیہاڑی دار مزدور متاثر ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز 23 مئی بروز منگل کو حکومت نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور اتحادیوں کے درمیان قانونی حدود میں رہتے ہوئے لانگ مارچ کی اجازت دینے پر اتفاق ہوا تھا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے اتحادیوں سے رابطے کرکے اتفاق رائے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

گزشتہ روز ہونے والے اہم اجلاس میں پی ٹی آئی کے مارچ کو سری نگر ہائی وے تک محدود کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا، تحریک انصاف سری نگر ہائی وے پر پرامن مارچ کرے گی تو رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، اس سے آگے آنے کی صورت میں قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے واضح پیغام دیا کہ نیوٹرل رہنے کا کہنے والے اب نیوٹرل رہیں۔ بیورو کریسی کو بھی دھمکی دی کہ کوئی غیر قانونی کام کیا تو ایکشن لیں گے۔

دوسری جانب حکومت نے پی ٹی آئی کا جلد انتخابات کا مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیاہے،یہ فیصلہ اتحادی حکومت کے رہنماؤں کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں لیا گیا۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی رہنماؤں میں مشاورت ہوئی تھی، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قبل ازوقت انتخابات نہیں کرائے جائیں گے، حکومت 2023ء تک اپنی مدت پوری کرے گی۔

PTI

PUNJAB

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div