پی ٹی آئی کالانگ مارچ روکنےکیلئے کریک ڈاؤن،متعدد کارکنان گرفتار

اہم پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر رات گئے چھاپے

مسلم لیگ نواز (ن) کی جانب سے پرامن جلسے کی شرط کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی اجازت کے دعوے کے باوجود حکومت نے گزشتہ رات گئے پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھر کریک ڈاؤن کے دوران متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا، کراچی سے 2 اور وہاڑی سے رکن قومی اسمبلی طاہر اقبال چوہدری کے سوا کسی اہم رہنما کو گرفتار نہ کيا جاسکا۔

اپوزیشن پارٹی کے خدشات گزشتہ رات 23 مئی بروز پیر کو درست ثابت ہوئے جب پی ٹی آئی رہنماؤں کو دارالحکومت کی جانب مارچ سے قبل نشانہ بنانے یا گرفتار نہ کیے جانے کی یقین دہانی کے باوجود پولیس نے پی ٹی آئی کی کئی اہم شخصیات کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے ليے پنجاب کے تمام اضلاع ميں رات 23 مئی بروز پیر کو چھاپے مارے گئے۔

وہاڑی سے رکن قومی اسمبلی طاہر اقبال چوہدری اور کراچی سے 2 رہنماؤں سمیت کسی اہم رہنما کو گرفتار نہ کيا جاسکا۔

کارکنوں کی بڑی تعداد کو حراست ميں لے ليا گيا۔ راولپنڈی ميں شيخ رشيد کی رہائش گاہ لال حویلی، فیاض الحسن چوہان اور اعجاز خان ججی اور راجہ بشارت اسلام آباد ميں اسد عمر اور بابر اعوان سيالکوٹ ميں فردوس عاشق اعوان اور عثمان ڈار کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے گئے۔

حماد اظہر

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف بڑا کریک ڈاون بھی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جنہيں 16 ایم پی او کے تحت نظر بند کيا جائے گا۔

حماد اظہر کی رہائش گاہ سے 20 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی بھاری نفری نے ان کے بیٹے کی تلاش کے لیے داخل ہونے سے پہلے ان کے دروازے پر دستک دی تھی۔

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے ٹوئيٹ ميں دعویٰ کيا ہے کہ پوليس ميرے گھر پہنچ گئی ہے۔ پوليس مجھے اور ديگر کو گرفتار کرنے پہنچی ہے۔

واقعے کے بعد پنجاب کی سابق وزیر صحت یاسمین راشد نے حماد اظہر کی رہائش گاہ پہنچ کر پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج اور دھرنا بھی دیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں سابق وزیر صحت پنجاب زمین پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیں۔ جب کہ پس منظر میں پولیس کی گاڑیاں دکھائی دیں۔

فواد چوہدری

علاوہ ازیں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ان کے گھر کی نگرانی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر جہلم روانہ ہوئے ہیں۔

گرفتاری کی فہرستیں تیار

اطلاعات کے مطابق سی سی پی او لاہور کی جانب سے تمام ڈویژنل ایس پیز کو سات سو چالیس کے قریب کارکنوں کی فہرستیں فراہم کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق لاہور سے پوليس نے پی ٹی آئی کے 150 سے زائد کارکنان کو گرفتارکيا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے پچيس مٸی کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اہم رہنماؤں، ٹکٹ ہولڈرز اور سرگرم کارکنوں کی گرفتاریوں کا فیصلہ کيا گيا ہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنما کی فہرستیں پولیس اور انتظامیہ کو فراہم کردی گٸی ہيں۔

اہم رہنماٸوں، ٹکٹ ہولڈرز اور سرگرم کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے جلد آپریشن متوقع ہے۔ ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر پي ٹي آئي کےاہم رہنما اورسرگرم کارکن نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہيں۔

محمود الرشید

پی ٹی آئی رہنما محمودالرشید کا کہنا ہے کہ لاہور سے روانگی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے حماد اظہر کے گھر میں میٹنگ جاری تھے کہ پولیس نے دھاوا بول دیا۔ رہنماوں کوجہاں جگہ ملی وہاں چھپ گئے۔ محمود الرشید کے مطابق پولیس نے دھاوے کے دوران چوکیدار کو تھپڑ بھی مارے۔

کراچی میں بھی چھاپے

کراچی میں پی ٹی آئی کے سینیر رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، جب کہ دو رہنماوں کو پولیس نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے کیماڑی میں شاہنواز جدون کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپہ مارا اور شاہنواز جدون کے والد کو ساتھ لے گئی۔ راجہ اظہر کے دعویٰ کے مطابق ایم پی اے ارسلان تاج کے گھر میں بھی پولیس داخل ہوئی۔

پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج کا کہنا ہے پوری رات سندھ پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ ہمارے ایم این ایز سیف الرحمان اور عطاءاللہ کو گرفتار کیا گیا۔

کراچی میں بھی کارکنوں کی فہرستیں بنائی جارہی ہیں۔ بغیر وارنٹ اور بغیر ایف آئی آر کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کارکنان 25 مئی کی تیاریاں کریں، پہلے سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔

فیصل آباد

فیصل آباد میں بھی تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گھروں پر پولیس کے چھاپے مارے گئے، پولیس مرکزی قیادت میں کسی بھی رہنما کو گرفتار نا کرسکی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے فیض اللہ کموکا، شکیل شاہد سمیت ديگر رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر ویڈیوز میں مبینہ طور پر پولیس کو پنجاب میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جن میں عثمان ڈار، ملک وقار احمد، انجینئر کاشف کھرل، مظہر اقبال گجر اور دیگر شامل ہیں۔

PTI

PUNJAB

IMRAN KHAN

POLICE RAID

CRACK DOWN.

LONG MARCH 2022

Tabool ads will show in this div