تحریک انصاف مارچ کے حوالے سے کوئیک ایکشن کا آغاز

پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی

شہراقتدار کی انتظامیہ اور پولیس نے تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ کے حوالے سے کوئیک ایکشن کا آغاز کر دیا۔

عمران خان کے 25 مئی کو حقیقی آزادی مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے ریڈ زون کو سیل کرنا شروع کر ديا۔ ڈی چوک، سرینہ چوک، نادرا ہیڈکوارٹرز پر کنٹینر رکھ ديے گئے، صرف مارگلہ روڈ کا راستہ کھلا رہے گا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کا مارچ اور دھرنے کی اجازت اور حفاظت سے معلق خط پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مشاورت شروع کر دی۔

پی ٹی آئی اسلام آباد کے جنرل سيکرٹری نے درخواست دی ہے کہ عمران خان نے 25 مئی کو سرینگر ہائی وے پر ایچ نائن اور جی نائن کے درمیان دھرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اسٹیج کی جگہ اور شرکا کی حفاظت سمیت ضروری انتظامات کئے جائیں۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نےایس ایس پی آپریشنز اےآئی جی سپیشل پرانچ اور اے سی انڈسٹریل ایریا کو مراسلہ بھیجا ہے کہ وہ اپنی اپنی رائےدیں تاکہ دھرنا کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب آئی جی پولیس نے ایمرجنسی کے علاوہ افسروں اور اہلکاروں کی چھٹیاں بند کر دی ہیں، آئی جی کے احکامات کے بعد ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز نے آرڈرز بھی جاری کر دیئے۔

صورتحال کے پیش نظر تحریک انصاف نے آزادی مارچ سے پہلے ممکنہ گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔

اسد عمر کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ انتظامیہ اور پولیس کو پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے روکے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہریوں کو پرامن احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق آئین دیتا ہے۔

PTI long march

Tabool ads will show in this div