ایران میں پاسداران انقلاب کا کرنل گھر کے باہر قتل

ایران نے الزام امریکا سے وابستہ حملہ آوروں پر عائد کردیا

ایران کے مرکزی شہر تہران میں پاسداران انقلاب کے ایک کرنل کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق اتوار 22 مئی کو تہران میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے پاسداران انقلاب کے کرنل صیاد خدائی کے گھر کے باہر ان پر 5 گولیاں چلائیں اور فائرنگ کے بعد آسانی سے فرار ہو گئے۔

تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ کرنل صیاد خدائی کا تعلق پاسداران انقلاب کے قدس فورس سے تھا جو پڑوسی ملک شام اور عراق میں بھی کام کرتا رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کرنل صیاد کو ایران کے دشمنوں نے قتل کیا ہے، جو عالمی تکبر سے وابستہ دہشت گردی کے ایجنٹ ہیں۔

اتوار کے روز ہی پاسداران انقلاب نے بھی اپنے ایک بیان میں اس کا الزام اسرائیل اور امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ کرنل صیاد تہران میں اپنے گھر کے باہر دو مسلح موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے قتل کیے گئے۔

واضح رہے کہ کرنل صیاد خدائی کا یہ قتل نومبر 2020 میں اعلیٰ جوہری سائنسدان محسن فخر زادہ کے قتل کے بعد ایران کے اندر اب تک کا سب سے ہائی پروفائل قتل ہے۔ ایران نے فخر زادہ کے قافلے پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

Iran

RG officer assassinated

Tabool ads will show in this div