شرح سود میں مزید 1.5 فیصد اضافہ

بڑھتی مہنگائی کے پیش نظرمانیٹری پالیسی مزید سخت

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیڑھ ماہ کے دوران دوسری مرتبہ شرح سود میں اضافہ کردیا ہے جس کے بعد اب پالیسی ریٹ بڑھ کر 13.75 فیصد ہوگیا ہے

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1.5 فیصد یعنی 150بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے جس سے شرح سود 12.25 فیصد سے بڑھ کر 13.75 فی صد ہوگئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2023 میں مہنگائی مزید بڑھنے کا امکان ہے البتہ مالی سال 2024 میں مہنگائی کی شرح تیزی سے نیچے آجائے گی۔

مرکزی بینک کے مطابق کرونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں شرح نمو زیادہ رہی جب کہ پاکستان میں شرح نمو توقعات سے زیادہ بڑھی, کوویڈ کے دوران شرح نمو 0.9 فیصد سکڑنے کے بعد 5.7 فیصد ہوگئی اس کے علاوہ روس اور یوکرین کے مابین تنازعے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ کے زیر اثر پاکستان میں مہنگائی زیادہ بڑھ رہی ہے۔ اپریل میں مہنگائی دو سال کی بلند ترین 13.4فیصد تک بھی پہنچ گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی اجلاس میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں آئندہ مالی سال میں تیل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اور جی ایس ٹی کے معمول پر آنے اور ایندھن وبجلی پر سبسڈیز کے خاتمے کو بھی فرض کیا گیا ہے جس کے تحت امکان ہے کہ عمومی مہنگائی عارضی طور پر بڑھے گی اور آئندہ پورے مالی سال کے دوران بلند سطح پر رہے گی۔

مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ جاری کھاتے کا خسارہ معتدل ہورہا ہے تجارتی خسارہ بھی سکڑ رہا ہے۔ اگلے مال سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے لگ بھگ کے تین فیصد تک پہنچ جائے گا۔

اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئی ایم ایف کی مدد سے پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات بخوبی پوری ہوجائیں گی اورزرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام بھی ملے گا جس سے روپے پر ضرورت سے زیادہ دباوٗ میں بھی کمی آئے گی۔

مرکزی بینک کے مطابق آئندہ بجٹ میں کفایت شعاری اور کمزور طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لئے بروقت اقدام کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ7 اپریل کو اسٹیٹ بینک نے ہنگامی طور پر مانیٹری پالیسی کا اعلان کرکے شرح سود میں غیر معمولی طور پر250 بیسس پوائنٹس یعنی 2.5 فیصد کا اضافہ کیا تھا جس سے شرح سود 12.25 فیصد کیا گیا تھا، ڈیڑھ ماہ میں شرح سود میں ہونے والا اضافہ 4فی صد تک پہنچ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کے بلند اعدادو شمار اور مستقبل میں بھی مہنگائی کے مزید خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

مانیٹری پالیسی اعلان سے قبل بھی معاشی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ شرح سود میں اضافہ کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی کے بعد بھی مہنگائی کی بلند شرح برقرار ہے، ٹی بلز پر منافع کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور15فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے۔

اس کےعلاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ بھی برقرار ہے جس کی وجہ سے شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی جارہی تھی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ شرح سود بڑھنے سے بینکوں کا سرمایہ مہنگا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں رقوم کی رسد کم ہونے سے مہنگائی میں کمی آتی ہے تاہم دوسری جانب بینکوں کا قرض مہنگا ہونے سے صنعتوں کی پیداوری لاگت بڑھتی ہے جس کا منفی اثر برآمدات اور ترقی کی شرح نمو پربھی ہوتا ہے۔

Monitory Policy

Tabool ads will show in this div