اسلام آباد ہائی کورٹ کی فالکنز کی درآمد اور برآمد پر پابندی کے حکم میں توسیع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پرسماعت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فالکنز کی درآمد اور برآمد پر پابندی کے حکم میں توسیع کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پرسماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وزارت خارجہ اپنے جواب کو ہی جواز کے طور پر کیسے پیش کرسکتا ہے؟۔

عدالت نے وزارت خارجہ حکام سے استفسار کیا کہ آپ قانون سے باہر کیسے جاسکتے ہیں؟۔ وزارت خارجہ حکام نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وزارت خارجہ نے کوئی پرمٹ جاری کیا نہ ہی لائسنس دیا۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پابندی کے باوجود پرمٹ کیسے دیا؟۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے وضاحت کی کہ پرمٹ جاری نہیں کیا، صرف این او سی دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزارت خارجہ اور موسمیاتی تبدیلی دونوں پرمٹ سے انکاری ہیں۔

ایف بی آر حکام نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں وزارت خارجہ کی جانب سے ہدایات موصول ہوئی تھیں،قانونی طور پر ایکسپورٹ نہیں ہوسکتی ہے لیکن وزارت خارجہ کے کہنے پر کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کوئی ہدایات جاری کردے تو مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ عدالت پہلے ہی فالکنز کی امپورٹ اور ایکسپورٹ پر پابندی لگا چکی ہے اور مستقبل میں بھی کوئی پرمٹ یا این او سی کسی کو جاری نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے جانور، پرندے آنے سے روکنا ایف بی آر کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کردی۔

ISLAMABAD HIGH COURT

Tabool ads will show in this div