ناظم جوکھیوقتل کیس،اے ٹی سی سے مقدمہ سیشن عدالت بھیجنےکی درخواست منظور

ملزمان کےوکیل نے کہا تھا کہ ناظم جوکھیو قتل کیس دہشت گردی کی عدالت میں نہیں چل سکتا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ناظم جوکھیو قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

ناظم جوکھیوقتل کیس میں اے ٹی سی سے سیشن عدالت بھیجنے کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

اے ٹی سی میں تفتیشی افسر ، مدعی اور بیوہ شیریں جوکھیو کے وکلا نے مقدمہ سیشن عدالت منتقل کرنے کی درخواست تھی۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے بتایا کہ مقدمہ سے جام اور کریم اور دیگر ملزمان کا نام نکالنے سے متعلق فیصلہ نہیں سنایا گیا، سیشن عدالت چالان کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔

پولیس،پراسکیویشن،مدعی مقدمہ اور ناظم جوکھیو کی اہلیہ نے دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کی مخالفت کی تھی۔

پراسکیویشن کا کہنا تھا کہ ناظم جوکھیو قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔

ملزمان کےوکیل نے کہا تھا کہ ناظم جوکھیو قتل کیس دہشت گردی کی عدالت میں نہیں چل سکتا ہے۔

ناظم جوکھیوکی اہلیہ کا ویڈیو بیان

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اردو اور سندھی زبان میں بدھ 30 مارچ کو ناظم جوکھیو کی بیوہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم جوکھیو سمیت تمام ملزمان کو خون معاف کردیا تھا۔ ناظم جوکھیو کی بیوہ شیریں جوکھیو نے یہ بات اپنے پہلے ویڈیو بیان میں بولی تھی۔ ویڈیو بیان میں ناظم جوکھیو کی بیوہ شیریں جوکھیو نے یہ بھی کہا کہ میں بہت مجبور ہوں، میرے گھر والوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے، اپنے بچوں کی خاطر میں نے سب ملزمان کو چھوڑ دیا۔

شیریں جوکھیو نے کہا کہ میں نے فیصلہ اللّٰہ تعالی پر چھوڑا ہے، جنہوں نے میرا ساتھ دیا میں ان کی شکر گزار ہوں اور اس ویڈیو کے ذریعے سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں مزید نہیں لڑسکتی۔

پس منظر

مقتول 27 سالہ ناظم جوکھیو کراچی کے نواحی ضلع ملیر کے گاؤں آچر سالار جوکھیو کے رہائشی اور ضلع کونسل کراچی کے ملازم تھے۔ ان کی 3 بیٹیاں اور1 بیٹا ہے جن کی عمریں 2 سال سے 6سال تک ہیں۔ سال 2021 نومبر میں ملیر میں ناظم جوکھیو نے چند غیر ملکی شکاریوں کو اپنے علاقے میں تلور کا شکار کرنے سے روکا تھا، بعد میں سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں خدشہ ظاہر کیا تھا انہیں اب مار دیا جائے گا۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ناظم جوکھیو کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔

کیس کا مقدمہ

ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے مقدمے میں جام عبدالکریم کا نام مرکزی ملزمان سے ہٹوایا، جس کے بعد میڈیا میں یہ اطلاعات عام ہوئیں کہ انہوں نے ڈیل کی ہے لیکن افضل نے اس کی تردید کی۔ اسی عرصے میں مدعی شیریں جوکھیو نے عدم اعتماد پر مقدمے کے وکلا تبدیل کیے۔

پولیس کے تحقیقاتی افسر بھی تبدیل ہوئے جب کہ کئی ماہ کی تاخیر کے بعد مقدمے کا چالان پیش کیا گیا اور مدعی کی درخواست پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی جائیں، جس کے بعد اس میں یہ دفعات شامل کر کے متعلقہ عدالت کو مقدمہ منتقل کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ابھی یہ مقدمہ زیر سماعت ہی نہیں آیا۔ مقدمے کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی کارکن شیریں کھوکھر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل آفس نے یہ مقدمہ ابھی بھیجا ہی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق ورثا قصاص و دیت کے مطابق ملزمان کو معاف نہیں کرسکتے، کراچی میں رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ میں سرفراز شاہ اور شاہ رخ جتوئی کے مقدمات بھی اس کی مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

NAZIM JOKHIO

Tabool ads will show in this div