گرفتاری کے بعد شیریں مزاری کو کہاں رکھاگیا تھا؟

ڈاکٹر شیریں مزاری کی سماء سے خصوصی گفتگو

Breaking: Shireen Mazari ka rehai kay baad Samaa ko Exclusive interview - 22 May 2022

رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد پہلے موٹر وے پر لاہور کیجانب لے جایا گیا جبکہ واپسی پر 3 ، 4 گھنٹے پولیس لائن میں رکھا گیا۔

پولیس سے رہائی ملنے کے بعد سماء کو اپنے پہلے انٹرویو میں تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر شیریں مزاری نے بتایا کہ لیڈی پولیس نے تشدد کیا تو انہوں نے موقع پر ہی حساب بھی چکا دیا۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گپ شپ کیلئے منزہ حسن کے گھر جا رہی تھی کے اس دوران گاڑی سے گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا،انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں جبری گمشدگی تھی، وہ لوگ مجھے لاپتہ کرنا چاہتے تھے لیکن ناکام ہوئے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پہلے رات کو عدالتیں کھلنے پر تحفظات تھے لیکن اب نظیر بن گئی ہے، شیریں مزاری نے گرفتاری کی مذمت کرنے والوں اور رہائی پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا شکریہ ادا کیا۔

مقدمے سے متعلق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ 1958 کے مقدمات میں پہلے پٹواری ملزم تھا، میرا نام بعد میں شامل کیا گیا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ہفتے کی شب شیریں مزاری کی گرفتاری پر وفاقی حکومت کو جوڈیشل انکوائری کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

SHIREEN MAZARI

Tabool ads will show in this div