کسی کو پاک چین دوستی سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، بلاول

پاکستان کیساتھ دوستی کو نہایت اہمیت دیتے ہیں،چین

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کسی کو پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چین کی حکومت کو یقین دلاتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ چینی باشندوں پر حملہ کرنے والوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اتوار 22 مئی کو چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی، ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ بعد ازاں مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کوبہت اہمیت دیتا ہے، چینی شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو کٹہرے میں لائیں گے۔ اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاک چین دوستی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کیلئے بھی ضروری ہے، کسی کو پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چین سے مذاکرت میں ہم نے باہمی مفادات کے تمام امور پر بات چیت کی ہے اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چین کے ساتھ باہمی خطرات اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا جائزہ لیا جس میں معاشی سست روی، کووڈ 19 کی وبا، موسمیاتی تبدیلی، تحفظ خوارک اور دہشت گردی شامل ہیں جن سے لوگوں کی زندگیوں اور روزگار پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین سے سیاست، دفاع، اسٹریٹجک تعلقات پر بھی مشاورت ہوئی ہے۔ چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کی رفتار بھی تبادلہ خیال کیا ہے جس نے پاکستان کی سماجی اقتصادیات اور عام آدمی کی زندگیوں کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی تعلقات میں بہتری پر بھی بات چیت کی ہے اور میں چین کا پاکستانی حکمت عملی کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، انفرااسٹرکچر، جدت، مالی تعاون میں چین کے کردار کو سراہتا ہوں۔ وزیر خارجہ نے 26 اپریل کو کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 3 چینی شہری اور پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک ملوث مجرمان کو کیفر کردار تک نہ پہنچا دے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے یہ یقین دہانی بھی کروانا چاہتا ہوں کہ پاکستان چینی شہریوں، اداروں، منصوبوں کو اہم مقام دے گا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے اور ہم کسی کو پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیر خارجہ یہ بھی کہا کہ چین میں پاکستانی طلبہ کو کیمپس میں پڑھائی بحال کرنے کے ابتدائی مرحلے پر بھی بات چیت کی اور پہلے بیچ کے واپس چین آنے کیلئے خصوصی انتظامات کرنے کے مثبت جواب پر چینی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے تبادلہ خیال کیا کہ بین الاقوامی ترقی، افغانستان کی صورت حال، جس سے امن و امان کو براہ راست خطرات ہیں، انسانی بحران اور معاشی تباہی سے نہ صرف افغانستان کے لوگوں بلکہ خطے کے لیے بھی خطرہ ہے۔ بلاول کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہم ہر تنازع کو حل کرسکتے ہیں، ہمیں خطے اور انسانیت کو بچانے، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور طویل المدت امن اور استحکام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر کو مسلم اکثریتی سے مسلم اقلیتی خطے میں بدلنے کے غیر قانونی اقدام کے تنازع پر چین کے حمایت اور ساتھ دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پہلے دوطرفہ دورے کے لیے چین کا انتخاب کرنا قدرتی ہے جو کہ نہ صرف روایتی طور پر بڑی اہمیت کا حامل ہے بلکہ چین کے ساتھ دوستی کے لیے بھی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میرے دورے کے موقع پر پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کو 71 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ قبل ازیں دونوں رہنماوں کے مابین ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون پر گفتگو ہوئی اور دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ ملاقات کے دوران پاک چین اکنامک کوریڈور پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بلاول بھٹو کے دورے کے دوران وزیر مملکت حنا ربانی کھر سمیت وزارت خارجہ کے اعلی افسران اور چین کے سفارت کاروں بھی موجود رہے۔

چینی ہم منصب

اس موقع پر چینی ہم منصب نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں، وزیرخارجہ کی حیثیت سے بلاول بھٹو کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کا مختلف علاقائی اور عالمی امور پر یکساں موقف رہا ہے

مذاکرات کے آغاز پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گوانگژو میں چینی اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وانگ یی کی دعوت پر بلاول بھٹو زرداری نے چین کا پہلا دورہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی چینی ہم منصب سے گفتگو کے دوران وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ چینی ہم منصب کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو پاک ۔ چین مشترکہ تعلقات سے متعلق ملاقاتوں اور دیگر امور کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔

گزشتہ روز وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اتفاقیہ طور پر وہ اس وقت دورہ چین پر جارہے ہیں جب پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کو 71 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ چین پہنچنے کی خبر دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ’آج کے دن پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کو 71 سال مکمل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات میں پاکستان چین تعلقات پر تفصیل سے گفتگو کے منتظر ہیں۔ وزیر خارجہ نے یہ ٹوئٹ چین کے جنوبی شہر گوانگژو پہنچنے پر کی تھی، جو چین کا سب سے بڑا شہر ہے اور چینی صوبے گوانگڈونگ کا دارالحکومت بھی ہے۔

CHINA

BILAWAL BHUTTO

Pakistan Latest News

Tabool ads will show in this div