عمران خان قوتوں کے لئے قابل قبول نہیں رہے، شوکت ترین

موجودہ حکومت نے افراتفری کی صورتحال پیدا کردی ہے، سابق وزیر خزانہ

Deteriorating Economic Conditions - Former Finance Minister Shaukat Tareen Press Conference

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ عمران خان قوتوں کے لئے قابل قبول نہیں رہے۔

کراچی میں مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ ہماری کارکردگی موجودہ حکومت سے بہتر تھی، ہمارے دور ميں ٹیکس وصولی ريکارڈ سطح پرکی گئی، ہم نے 55 لاکھ نئی نوکریاں دی ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد تھے۔ ہم نے احساس پروگرام اور کامیاب جوان پروگرام دیا، صحت کارڈ 400 ارب روپے کا سالانہ پروگرام ہے، کامیاب پروگرام میں کم شرح سود پر قرضہ دیتے ہیں۔ ان کے آتے ہی اسٹاک مارکيٹ 3 ہزار پوائنٹس گر گئی، ريکارڈ ٹيکس حاصل کرنے والے چيئرمين ايف بی آر چلے گئے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم 75 سال ڈکٹیشن لیتے رہے ہیں لیکن عمران خان نے کہا کہ ایبسولوٹلی ناٹ، عمران خان قوتوں کو قابل قبول نہیں رہے جب کہ اتحادی بھی ٹیلی فون کال کا انتظار کرتے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ جمہوریت تسلسل سے چلتی ہے، برسر اقتدار لوگوں کو 5 سال کے درمیان چھیڑیں گے تو ردعمل آئے گا۔ عمران خان کو زبردستی ہٹايا گيا، يہ سازش کيسے ہوئی عمران خان کئی مرتبہ جلسوں ميں بتاچکے، 10 اپريل کی رات کو بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔

اشیا کی قیمتوں کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا کہ پرائس کنٹرول کی 6 ہفتوں میں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، مجھے واپس لے کر آئیں میں قیمتیں کنٹرول کر کے دکھاتا ہوں۔

کرپشن کے الزامات کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں ہیں، اگر ہم نے کوئی کرپشن کی ہے تو کیسز لائے جائیں۔

پر تعیش اشیا پر پابندیوں سے متعلق سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت گھبراہٹ میں ہے، موجودہ حکومت نے افراتفری کی صورتحال پیدا کردی ہے، میں ہوتا تو چند چیزوں کی درآمدات پر ہی پابندی لگاتا، یہ یہ تمام اشیا اسمگل ہوکر پاکستان میں آئیں گی۔

PTI

IMRAN KHAN

Shaukat Tareen

Tabool ads will show in this div