دنیا بھر میں پھیلنے والا منکی پوکس پاکستان کے لیے کتنا خطرناک؟؟

کوئی ملک کسی وبائی بیماری سے محفوظ نہیں ہوتا، ماہرین

یورپ، امریکا اور آسٹریلیا میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری منکی پاکس جہاں دنیا بھر کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کیا ہے وہیں اس حوالے سے پاکستانی شہری بھی پریشان ہیں۔

پہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور ایسے افراد میں بھی اس کی تشخیص ہوئی ہے جو کبھی افریقا گئے ہی نہیں۔

شہریوں کی بڑی تعداد یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا یہ وائرس پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے، یہ وائرس ہے کیا اور اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

اس حوالے سے سماء ڈیجیٹل نے وبائی و جلدی امراض کے ماہرین سے بات کی ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے، یہ قریبی تعلق رکھنے والے فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ بیماری اسمال پاکس سے ملتی جلتی ہے، اس میں جسم پرپانی والے دانے نکل آتے ہیں، اس لیے ہاتھوں کو زیادہ سے زیادہ دھوئیں۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہ ایک پرانا وائرس ہے یہ عموماً جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے اور شدید بیمار بھی کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس وائرس نے متاثر کیا ہے ان میں جانوروں سے وائرس منتقلی اور کسی ایسے علاقے کی ٹریول ہسٹری نہیں ملی جہاں یہ وائرس پایا جاتا ہو، اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ یورپ اور امریکا میں ہی پھیل رہا ہے، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وائرس سے متاثرہ لوگوں کو کیسے متاثر کیا اور کیوں پھیل رہا ہے۔

ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا تھا کہ یہ بات تو طے ہے کہ یہ وائرس میل ملاپ سے پھیلتا ہے، یہ ہوا میں نہیں ہوتا، اس کے پھیلنے کی دو تین وجوہات ہیں ، ایک تو یہ وائرس پھیل رہا تھا اور کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، اب سب کی نظریں اس پر ہیں تو مزید کیسز سامنے آئیں گے۔

ماہرمتعدی امراض نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کوئی کیس ہماری نظروں سے نہیں گزرا لیکن جو جلدی امراض کے ماہرین ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس پر نظر رکھیں، اس میں چکن پاکس کی طرح کا مواد ہوتا ہے، یہ اسمال پاکس سے ملتا جلتا ہے، اس میں جسم پر پانی والے دانے بنتے ہیں، اس لیے اگر ایسا کوئی فرد آئے تو اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ ضرور لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ہاتھوں کو صابن سے ضرور دھوئیں، اگر کسی کو شبہ ہو اور اوپر بیان کی گئی علامات ہوں تو ڈاکٹر کو جلد سے جلد دکھائیں، عام میل ملاپ سے اس کے پھیلنے کے امکانات کم ہیں یہ قریبی تعلق سے ہی پھیلتا ہے۔

سب سے اہم احتیاط یہی ہے اگر کسی کو بخار ہو ، جسم پر پانی والے دانے ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ بھی ممکن ہے عموما ہم اس بارے میں سوچتے نہیں ہیں۔

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے بتایا کہ منکی پاکس پچاس کی دہائی کے آخر میں رپورٹ ہوا تھا، پہلی بار بندروں میں اس کی تشخیص ہوئی تھی تو اس لیے اسے منکی پاکس کہا جاتا ہے۔

ساٹھ کی دہائی سے اس کے کیسز افریقی ممالک میں رپورٹ ہو رہے ہیں،یہ آج تک بندروں اور افریقا میں گلہری سے ملتے جلتے جانور میں ملا ہے، اس کی انسان سے انسان کو منتقلی بہت کم رہی ہے۔

ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ جو بیماری جانور سے انسان کو منتقل ہوتی ہے اسے زونوٹک ڈیزیز کہتے ہیں، اس میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا یہ آسانی سے انسان سے انسان کو بھی منتقل ہو سکتی ہے یا محدود ہوتی ہے، منکی پاکس محدود پیمانے پر انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس چیچک یا اسمال پاکس کے خاندان سے ہے، دنیا بھر میں 1980 تک ہر انسان کو اسمال پاکس کے بچاؤ کی ویکسی نیشن ہوتی تھی ، 1980 کے بعد یہ ویکسین لگنا بند ہوگئی۔ اب ایک ایسی نسل ہے جنہیں یہ ویکسین نہیں لگی، یہ اسمال پاکس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جنہیں ویکسین لگتی ہوگی تو ان میں کچھ نہ کچھ قوت مدافعت موجود ہوتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری چھونے اور جمسی تعلق سے پھیلتی ہے، چالیس سال سے یہ بیماری افریقا میں تھی اور اگر یورپ میں کوئی کیس رپورٹ ہوتا تھا تو اس کی ٹریول ہسٹری ہوتی تھی۔ اب جو کیسز امریکا اور یورپ میں رپورٹ ہوئے ہیں ان کی کوئی ٹریول ہسٹری افریقا کی نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہ مقامی طور پر پھیل رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے کہا کہ کوئی ملک کسی وبائی بیماری سے محفوظ نہیں ہوتا، یہ بیماری پہلی بار افریقا سے باہر اتنے ممالک میں نظر آرہی ہے، اس پر تحقیق ہورہی ہے کہ یہ بیماری کیسے 4 براعظموں میں آگئی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے بھی وہی احتیاطی تدابیر ہیں کہ ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں، متاثرہ افراد کی اشیا کو چھونے سے گریز کریں۔

جلدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں اب تک ایسے کیسز نہیں دیکھے گئے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہے۔

حالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

HEALTH

monkeypox

Tabool ads will show in this div