خواتین کو معاشرے سے علیحدہ کرنیوالی عام بیماری

پاکستان میں سالانہ 5ہزار خواتین متاثر ہوتی ہیں، ماہرین

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 20لاکھ خواتین فسٹولا کے مرض کا شکار ہوکر معاشرے سے علحیدگی پر مجبور ہوجاتی ہیں، پاکستان میں ان خواتین کی تعداد سالانہ 4 سے 5 ہزار ہے۔

فسٹولا کی بیماری بھی بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں بسنے والی عورتوں کی ایسی بیماری ہے جس سے ناصرف بچا جاسکتا ہے بلکہ اس کا مؤثر علاج بھی ممکن ہے۔

یہ بیماری زچگی کا دورانیہ طویل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور دوران زچگی بچے کے پھنس جانے کی وجہ سے پیشاب اور بسا اوقات پاخانے کی تھیلیوں میں سوراخ ہو جاتا ہے جس سے مسلسل پیشاب اور پاخانہ بہتا رہتا ہے۔

ماہرین نے ہفتہ کے روز کراچی پریس کلب میں فسٹولا کے عالمی دن کی مناسبت سے پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی، کوہی گوٹھ اسپتال کی گائناکولوجسٹ ڈاکٹر شاہین ظفر، تحریک نسواں کی نمائندہ شیما کرمانی، مڈوائفری ایسوسی ایشن کی رکن عروسہ لاکھانی بھی موجود تھیں۔

ڈاکٹر سونیا نقوی اور ڈاکٹر شاہین ظفر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک میں بہت سی بیماریوں اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے اقوام متحدہ مختلف مواقع پر ایسے بین الاقوامی دن منعقد کرتی ہے، جس سے لوگوں میں ان بیماریوں سے بچنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے، انٹرنیشنل فسٹولا ڈے کا انعقاد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا بنیادی مقصد فسٹولا میں مبتلا عورتوں کی تلاش اور کامیاب علاج کے ذریعے ان کی زندگیوں کو بدلنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں عورتیں ہر سال اس شرمناک بیماری کی وجہ سے معاشرے سے کٹ جاتی ہیں اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، یہ بیماری بذات خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ معاشرے میں عورت کو برابری کا مقام حاصل نہیں اور نہ ہی صحت کی بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔

ماہرین صحت نے بتایا کہ پاکستان نیشنل فورم آن ویمن ہیلتھ 2005ء سے یو این ایف پی اے کے تعاون سے ایسی تمام خواتین کا ملک بھر میں مفت علاج کررہی ہے، 2017ء سے اب یہ تمام سہولیات فسٹولا فاؤنڈیشن اور یو این ایف پی کے تعاون سے مہیا کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ایسے 9 مراکز بنائے گئے ہیں جہاں پر ان مریضوں کا ناصرف مفت علاج ہوتا ہے بلکہ انہیں سفری اخراجات بھی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ فسٹولا مراکز میں پہنچ سکیں، یہ مراکز کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ایبٹ آباد اور اسلام آباد میں واقع ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان یہ عہد کرے کہ فسٹولا کے خاتمے کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، بڑے پیمانے پر مڈوائف کی ٹریننگ شروع کی جائے اور انہیں بہتر سروس اسٹرکچر دیا جائے تاکہ ہر حاملہ خاتون کی دیکھ بھال اور زیر نگرانی زچگی کا عمل ممکن بنایا جاسکے اور فسٹولا سے بچاؤ ممکن ہوسکے۔

HEALTH

fistula

Tabool ads will show in this div