شیریں مزاری کی گرفتاری پر مختلف علاقوں میں احتجاج

احتجاج کے دوران مظاہرین کی نعرے بازی

پاکستان تحریک انصاف کی کال پرملک کے مختلف علاقوں میں شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی کال پر ملک کے مختلف علاقوں میں شیریں مزاری کی کال پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

مظاہروں کے دوران تحریک انمصاف کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور شیریں مزاری کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل تحریک انصاف کےرہنما فواد چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شيريں مزاری کے کپڑے پھاڑے گئے، حکومت نےاعلان جنگ کيا ہے تو ہم نے بھی کرديا ہے، آج شام 7 بجے ملک گیر احتجاج ہوگا۔

‘گرفتاری کا طریقہ غیرقانونی تھا’

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بابراعوان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت ملک میں خانہ جنگی چاہتی ہے، حقیقی آزادی مارچ نہیں روکا جاسکتا، پولیس گرفتاری کے لیے جاتی ہے تواس کا ریکارڈ ہوتا ہے،شیریں مزاری کی گرفتاری کا طریقہ غیرقانونی تھا، یہ اغواء ہےعدالت اس کا نوٹس لے۔

شیریں مزاری کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے

سابق وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے، محکمہ اینٹی کرپشن نے شیریں مزاری پر بے بنیاد مقدمہ بنایا، اس معاملے کی نہ تو تحقیقات ہوئی نہ ہی شیریں مزاری کو انکوائری کے لئے بلایا گیا۔

حکومت فاشزم کے ذریعے ہمیں جھکانا چاہتی ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی سینیئر رہنما شیریں مزاری کو ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا،شیریں مزاری بہت مضبوط اور نڈر رہنما ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت فاشزم کے ذریعے ہمیں جھکانا چاہتی ہے تو یہ اس کی بھول ہے، ہماری تحریک مکمل طور پر پرامن ہے، کل کور کمیٹی اجلاس کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کروں گا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی سوالات اٹھادیئے ہیں۔

PTI

Tabool ads will show in this div