وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی شیریں مزاری کو رہا کرنے کی ہدایت

گرفتار کرنے والے اینٹی کرپشن عملے کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، حمزہ شہباز

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ شیریں مزاری بطورخاتون قابل احترام ہیں، تفتیش اور تحقیقات کے نتیجے میں اگر گرفتاری ناگزیر ہے تو قانون راستہ خود لے گا،گرفتار کرنے والے اینٹی کرپشن عملے کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

شیریں مزاری کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تھانہ کوہسار کی جانب سے بھی شیریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی۔

اینٹی کرپشن ٹیم ڈیرہ غازی خان نے شیریں مزاری کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کے خلاف ضلع راجن پور میں اینٹی کرپشن کے تحت 5/22 کا مقدمہ درج ہے۔

شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے ٹوئٹ کرتےہوئے بتایا کہ شیریں مزاری کو گرفتار کرتے ہوئے ان کو مرد پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

لیگی رہنما طلال چوہدری نے سماء سے بات کرتےہوئے بتایا کہ شیریں مزاری کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان کے خلاف درج مقدمے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

سماء سے بات کرتےہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ حکومت کو ڈیڑھ سال کی گارنٹی نہیں ملی،اس لئے انھوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔

شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ چار روز میں مزید رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا جائےگا۔

شیریں مزاری کی گرفتاری کے مناظر بھی کیمرے میں ریکارڈ ہوگئے ہیں۔ گرفتاری کے وقت شیریں مزاری کو خاتون پولیس اہلکاروں کے ساتھ مزاحمت کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ہائی کورٹ میں درخواست

شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی، درخواست شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے آج ہی درخواست پر سماعت کی استدعا کردی ہے ، جس کے بعد رجسٹرار آفس نے معاملہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھجوا دیا ہے۔

(ن) لیگ کا ابتدائی موقف

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹرٹ میں پریس کانفرنس میں لیگی رہنما ملک احمد خان نے شیری مزاری کی گرفتاری پر کہا تھا کہ ان کے والد عاشق مزاری کی اراضی لینڈ ریفارمز پر بحق سرکار ہوئیں۔اراضی الاٹ ہونے کے بعد زمین کے حقوق ملکیت کےطور پر کاشت کی اجازت دی لیکن پرت پٹوار میں 218 اور 480 کنال سمیت دیگر ہزاروں ایکٹر زمین پر قبضہ کیا گیا۔

لیگی رہنما نے کہا تھا کہ حکومت کا شیری مزاری کی گرفتاری میں کوئی کردار نہیں ہے اور ہم انتقام نہیں لیں گے لیکن انہوں نے عام آدمی کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔ شیری مزاری کی پوری فیملی پر مقدمات ہیں اور انھوں نے جعلی ڈاکومنٹ تیارکرکے ریونیو ریکارڈ کو ضائع کرکےغیرقانونی زمین پر قبضہ کیا،چار سو بیس اور چار سو اکہترایکٹرزمین کا پرت سرکار کاریکارڈ غائب کیا گیا۔

ڈاکٹرشیریں مزاری کےخلاف اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان میں اپریل میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر یکم اپریل 2022 کو پی ٹی آئی حکومت کے دوران درج کی گئی تھی۔

Tabool ads will show in this div