برطانیہ: منکی پاکس کے مزید 11 کیسز رپورٹ

منکی پاکس کیخلاف مؤثرویکسین کی خوراکیں حاصل کرلی گئی ہیں

برطانیہ میں منکی پاکس کے مزید11 نئے کیس سامنے آگئے ہیں، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 20 ہوگئی۔

برطانوی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد وائرس سے شدید متاثر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی7 ممالک کے وزرائے صحت کو اس حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ منکی پاکس کےخلاف مؤثر ویکسین کی مزید خوراکیں حاصل کرلی ہیں۔

دریں اثنا ہیلتھ ایجنسی کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کی وائرل انفیکشن ہیومن اسمال پاکس سےمشابہ ہے۔ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق منکی پاکس کے مریض کو صحت مند ہونے میں چند ہفتے لگتے ہیں۔ وائرس کا عوام میں پھیلنے کا خطرہ بدستور کم ہے۔

واضح رہے کہ اب تک پرتگال میں 23، اٹلی میں 2، جرمنی، فرانس اور سوئیڈن میں بھی ایک ایک کیس سامنے آچکا ہے۔

اس سے قبل برطانیہ میں منکی پاکس کے چار نئے مریض ہم جنس پرست یا ( مرد ) ہیں جو لندن میں اس بیماری سے متاثر ہوئے۔ 4 میں سے دو افراد ایک دوسرے کو جانتے تھے لیکن منکی پاکس کے کسی بھی گزشتہ کیس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم نرسوں اور ڈاکٹروں کو نئی وبا کے متاثرہ مریضوں کیلئے چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اسکائی نیوز کے مطابق 7 مئی کو برطانوی محکمہ صحت نے اعلان کیا تھا کہ حال ہی میں نائیجیریا کا سفر کرنے والے مسافر کو منکی پاکس انفیکشن ہوا ہے، تاہم ہفتے کے روز دو مزید کیسز سامنے آئے ، متاثرہ دو افراد ایک ہی گھر میں رہتے تھے لیکن ان کا ابتدائی کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کی چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سوزین ہاپکنز نے کہا ہے کہ ’یہ بیماری نایاب اور غیر معمولی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم تیزی سے ان انفیکشن کی تحقیقات کر رہے ہیں کیونکہ شواہد بتاتے ہیں کہ لوگوں میں منکی پاکس وائرس قریبی رابطے سے پھیلتا ہے۔

ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق ہم جنس پرست اور بائی سیکشوئل مردوں پر زیادہ زور دیا جارہا ہے کہ وہ جسم پر کسی بھی غیر معمولی داغ اور زخموں کے سامنے آنے پر بغیر کسی تاخیر کے ڈاکڑز سے رابطہ کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نایاب وائرل انفیکشن جو متاثرہ افراد میں سے دس میں سے ایک کی جان لے لیتا ہے ،لوگوں میں آسانی سے نہیں پھیلتا۔ یہ طویل عرصے تک آمنے سامنے رہنے یا جسمانی روابط کے دوران سانس کے ذریعے پھیلتا ہے۔

منکی پاکس کا پہلا کیس کب سامنے آیا؟

رپورٹس کے مطابق منکی پاکس پہلی بار 1958 میں دریافت ہوا تھا، جس کا پہلا انسانی کیس 1970 میں ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں رپورٹ کیا گیا تھا جبکہ امریکا میں پہلی بار 2003 اور برطانیہ میں ستمبر 2018 میں انسانی کیسز ریکارڈ رپورٹ ہوئے تھے۔

بیماری کی علامات

منکی پاکس میں پہلے فلو ہوتا ہے اور پھر جسم پر نکلنے والے دانے انتہائی تکلیف دہ زخموں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے جلتی ہوئی سگریٹ زخموں پر رکھ دی ہو۔

اس بیماری میں مریض کے صحت یاب ہونے کا کوئی مخصوص وقت نہیں لیکن مریض کو مکمل اور توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ منکی پاکس کو اکثر چکن پاکس، خسرہ جیسی عام خارش کی بیماری سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے جلد تشخیص کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مرض کیسے پھیلتا ہے؟

یہ جان لیوا مرض پہلے جانوروں کے ذریعے انسانوں کو متاثر کرتا ہے اور پھر انسانوں کے درمیان وائرل ہونے کا سبب بنتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق منکی پاکس بندروں، چوہوں،گلہریوں اور دیگر چھوٹے ممالیہ جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے جبکہ یہ زیادہ تر مغربی اور وسطی افریقا میں پایا جاتا ہے۔

HEALTH

MONEY POX

UK.

Tabool ads will show in this div