عمران خان کی جان کو خطرہ، بنی گالہ کے اطراف سرچ آپریشن

کسی کارکن کو گرفتار نہیں کیا گیا

سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر اور اطراف میں پولیس کی جانب سے جمعہ 20 مئی کی رات سرچ آپریشن کیا گیا، اس موقع پر ہزاروں کارکن بھی بنی گالہ کے باہر لگائے گئے خیموں سے نکل آئے۔

رات گئے پولیس کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر سرچ آپریشن پر کارکنان کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔

کیپٹل پولیس کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن سیکیورٹی چیک اپ کیلئے کیا گیا ہے۔

پولیس کے اعلیٰ افسران بھی نفری کے ہمراہ بنی گالا پہنچے، بکتر بند گاڑیاں، قیدیوں کی وین، سی ٹی ڈی، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور اسپیشل برانچ کی نفری بھی پولیس کے ہمراہ تھی۔

پولیس کی بھاری نفری دیکھ کر پی ٹی آئی کارکنان پریشان ہوگئے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے، اس موقع پر علی امین گنڈا پور بھی بنی گالا پہنچ گئے۔

پولیس کے مطابق وہ کسی کارکن کو گرفتار کرنے کیلئے نہیں بلکہ بنی گالا کے باہر سرچ آپریشن کیلئے آئے تھے، تاہم ایک گھنٹے تک کھڑی رہنے والی اسلام آباد پولیس بنا کسی سرچ آپریشن کے واپس روانہ ہوگئی۔

اسلام آباد پولیس نے بنی گالہ کی جانب آنے جانے والے افراد کی چیکنگ کی، ایس ایس پی کے مطابق بنی گالہ میں خیموں میں موجود افراد کے خلاف کسی قسم کا آپریشن نہیں ہو رہا۔ روٹین کا سرچ آپریشن ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اپنے بیان میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی جان کو لاحق خطرے سے متعلق خدشہ ظاہر کیا تھا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے، میرے خلاف ہوئی سازش کا گزشتہ سال اگست سے معلوم ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فیصل واؤڈا نے بھی کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو قتل کی دھمکی بھی دی گئی ہے، انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

IMRAN KHAN

BANI GALA

POLICE.

SEARCH OPERATION.

Tabool ads will show in this div