فلسطینی باشندے گھروں سے بیدخلی کے بعد غاروں میں رہنے پر مجبور

اسرائیل مغربی کنارے میں 10 یہودی بستیاں قائم کر رہا ہے،رپورٹ

مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا میں فلسطینی باشندے اپنی اراضی یہودی بستیوں میں تبدیل ہونے پر غاروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے گاؤں جنبا سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون نجاح جبارین اپنے 17 افراد پر مشتمل کنبے کے ساتھ ایک پرانے غار میں رہائش پذیر ہیں۔

جنبا گاؤں اس علاقے میں اُن 22 چھوٹے رہائشی کمپاؤنڈز میں سے ہے جن کو اسرائیل ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے چکا ہے اور 1980ء سے یہاں عمارتوں کی تعمیر پر پابندی ہے۔

رپورٹ کے مطابق علاقے کے بعض لوگ کوچ کر جانے اور متبادل جگہ کی تلاش پر مجبور ہو گئے تاہم بقیہ لوگ علاقے میں اپنی روزی روٹی کے ذرائع کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جنبا گاؤں کی آبادی 10 ہزار نفوس پر مشتمل ہے تاہم اب یہاں محض چند درجن افراد رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1967ء میں اسرائیلی قبضے سے قبل اس گاؤں میں 40 گھر آباد تھے تاہم اسرائیلی حکام نے ابتدائی برسوں میں ہی ان سب کو گرا دیا اور صرف 4 گھر باقی رہ گئے۔

اسرائیل نے مسافر یطا کے علاقے کو 1980ء نو گو ملٹری ایریا قرار دیا۔ اس پر علاقے کے لوگوں نے اسرائیلی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور رواں سال 7 متئی کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے علاقے کے 8 دیہات کی آبادی کی جانب سے پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔

شواہد اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ ان دیہات کے لوگ اسرائیل کی تاسیس سے قبل یہاں معمول کی زندگی گزار رہے تھے۔ اسرائیل کے ہاتھوں انہدام سے بچ جانے والے چار پرانے گھر سلطنت عثمانیہ اور برطانوی دور کے قائم ہیں مگر اسرائیلی عدالت کا کہنا ہے کہ 1980ء میں جب اسرائیلی فوج نے اپنا فیصلہ جاری کیا تھا تو اس وقت یہ لوگ یہاں سکونت پذیر نہ تھے۔

مسافر یطا میں دیہاتی کونسل کے سربراہ نضال یونس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا مقصد واضح ہے۔ وہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو اسرائیل میں یہودیوں کے کمپاؤنڈز کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔ وہ گرین لائن کو مٹانا چاہتا ہے جو فلسطین اور اسرائیل کی ریاست کے بیچ تقسیم کرنے والی لائن شمار ہوتی ہے۔

Palestine

Tabool ads will show in this div