نئی حکومت کے دوسرے ماہ بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ

گزشتہ ہفتہ 33اشیائے صرف مہنگی ہوگئیں

نئی حکومت کے دوسرے ماہ بھی ملک بھر میں ہوشربا مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے، 19مئی کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران بھی کئی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 19مئی کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں 1.42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 16.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے 13مئی کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.49 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 15.85 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ 19 مئی کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی کی رفتار زیادہ رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 51 اشیاء میں سے 33 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 4 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 14 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ جن اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں مرغی، مسور کی دال، انڈے، چاول، ماش کی دال، پیاز، دہی، تازہ دودھ اور انرجی سیور شامل ہیں جبکہ اس دوران کیلے، ٹماٹر، آلو اور گڑ کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو گزشتہ ہفتہ کے دوران پچھلے سال کے مقابلے میں ٹماٹر، پیاز، ایل پی جی، کوکنگ آئل اور صابن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق مہنگائی بڑھنے کی وجہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے، اس کے علاوہ تیل مہنگا ہونے کی وجہ ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بھی بڑھ گئی، جس کی وجہ سے تمام ہی اشیائے صرف کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں متوقع اضافے سے مہنگائی کی شرح آئندہ دنوں مزید بڑھ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 بنیادی اشیائے صرف کی قیمتیں اکھٹی کی جاتی ہیں اور اس سروے کے مطابق ہفتہ وار نتائج جاری کئے جاتے ہیں۔

inflation

Tabool ads will show in this div