لاڈلے کی طرح ہمیں سپورٹ ملتی تو پاکستان اوپر جاتا، وزیراعظم

آج مشکل آن پڑی ہے تو قربانی دینا ہوگی، شہباز شریف

Kya Hamari Taqdeer Main Likha Hai Hum Bhikari Rahein? - PM Shahbaz Sharif Speech At Karachi

وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ لاڈلے کو ہمارے مقتدر ادارے نے جو سپورٹ دی وہ کسی کو نہیں ملی، ہماری کسی حکومت کو 30 فیصد بھی ایسی سپورٹ ملی ہوتی تو پاکستان اوپر جاتا، مشکل آن پڑی ہے تو قربانی دینا ہوگی، لگژری اشیاء پر ایک خاص مدت کیلئے پابندی لگائی ہے، پچھلی حکومت نے عدم اعتماد کی کامیابی کے ڈر سے پیٹرول کی قیمتیں کم کیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن میں ہوں تو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں، یہاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیا، بہت سنجیدہ مسائل ہیں جن کا حل جاننے آیا ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ڈالر کی بات کرتے ہیں، اگست 2018ء میں ڈالر 115 روپے کا تھا، تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں 11 اپریل 2021ء کو ہمارے متحدہ اتحاد کی حکومت بنی تو اس وقت ڈالر 189 روپے پر تھا، تقریباً 75 روپے کی اڑان میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جس دن میں نے حلف لیا تو ڈالر 8 روپے سستا ہوگیا، پاکستان اسٹاک مارکیٹ بھی ایک ہزار پوائنٹس سے زائد اوپر گئی، پچھلی حکومت کو جب پتہ چلا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی تو کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ پیٹرول کی قیمت کم کردیں، دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند سطح پر ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان قرضوں کی مے پی رہا ہے، ہماری سیاسی مجوری تھی، سر منڈاتے ہی اولے پڑے، پاکستان میں عام آدمی کو تین سال کے دوران ایک دھیلے کا ریلیف نہیں ملا، ساڑھے تین سال میں آٹے، تیل، چینی کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے کوئی ایک ایسا منصوبہ نہیں بنایا جس کا معیشت اور ترقی سے کوئی تعلق ہو جس کا پھل دینے کا وقت آچکا ہو، 2018ء سے ساڑھے تین سالوں میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ لاڈلے (عمران خان) کو ہمارے مقتدر ادارے نے جو سپورٹ دی وہ کسی کو نہیں ملی، ہماری کسی حکومت کو 30 فیصد بھی ایسی سپورٹ ملی ہوتی تو پاکستان اوپر جاتا۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت ميں سستے منصوبے لگے دنيا کی تاريخ ميں کہيں نہيں لگے، پوچھتا ہوں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تھی دوبارہ کیسے شروع ہوئی، کیوں ہوئی؟، 22 کھرب روپے کا قرضہ لیا گیا وہ کہاں گیا، قوم جواب مانگتی ہے، مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت 3 ڈالر پر یونٹ تھی، نہیں خریدی، جب ایل این جی کی قیمت 60 ڈالر پر پہنچ گئی تو سودے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے عدم اعتماد کے ڈر سے پیٹرول کی قيمتيں کم کيں، غير ضروری لگژری آئٹم پر ايک خاص دورانيے کيلئے پابندی لگائی گئی، مشکل آئی ہے تو ہميں قربانی دينا پڑے گی، لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی سے 250ملین ڈالر ماہانہ اور 3 ارب ڈالر سالانہ کی بچت ہوگی۔

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کیا ہماری قسمت ميں لکھا ہے کہ ہم بھکاری اور غريب رہيں گے، ہم اسی طرح رہے تو اگلے 500 سال بھی حالت نہيں بدلے گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی ايک ارب ڈالر کی سرمايہ کاری کا تحفہ موجود ہے، حکومت سندھ اور ايم کيو ايم بيٹھ کر شہر کا پلان بنائيں، سب صوبوں ميں آئی ٹی ٹاورز اور انڈسٹریل زونز بننے چاہئيں، چینی ناراض ہوگئے تھے، سی پیک ٹھنڈا پڑ چکا ہے، چینی وفد نے کل کہا ہے ہم کے سی آر کیلئے بہت سنجیدہ ہیں۔

پاکستان سالانہ 20 ارب ڈالر خرچ کرنے کا متحمل نہيں ہوسکتا، ہميں سولر اور ونڈ انرجی کی طرف جانا پڑے گا، گرين انرجی ملک ميں آئی تو 20 ارب ڈالر کو بچاليں گے، ایکسپورٹ اور امپورٹ کے درمیان 45 ارب ڈالر کا فرق ہے۔

سولر پینل پر ٹیکس ختم کرنیکا حکم

وزيراعظم شہباز شريف نے سولر پينل پر 17 فيصد ٹيکس ختم کرنے کا حکم دیديا۔ مفتاح اسماعيل کو مخاطب کرکے کہا ٹيکس فوری ختم کريں، یہ بہت نامناسب ہے، وزير خزانہ نے کہا سَر آپ نے کہہ ديا تو اعلان ہوگيا۔ شہباز شريف نے کہا آپ نے يہ فوری کرنا ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ میری ميثاق معيشت کی تجويز کو ٹھکراديا گيا تھا، کوئی جادو يا چھومنتر سے کام نہيں ہوسکتا، بھارت سے دفاع میں پیچھے نہیں لیکن تعلیم و معیشت میں بہت پیچھے ہیں، آئی ٹی کی ایکسپورٹ 200 ارب ڈالر تک پہنچ رہی ہے، ہم صرف ڈیڑھ ارب ڈالر پر ہیں، ہمارے بچے اور بچیاں بہت ذہین ہیں، انہیں خود مختار بنائیں تو وہ بہت آگے جاسکتے ہیں، آئندہ سالانہ 15 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کا تخمینہ لگایا ہے، ہم یہ ہدف حاصل کرسکتے ہیں۔

IMRAN KHAN

pm shehbaz sharif

Tabool ads will show in this div