تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی میں 25 اراکین ڈی سیٹ قرار

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کيخلاف اسپيکر کے ريفرنس پرفیصلہ سنادیا۔

تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو الیکشن کمیشن نے نااہل قراردیتے ہوئے ڈی سیٹ کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کيخلاف اسپيکر کے ريفرنس پرفیصلہ سنادیا تاہم تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی تاحیات نااہلی سے بچ گئے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے وقت تحریک انصاف کے 25 ارکان اسمبلی نے تحریک انصاف کے امیدوار کے بجائے ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز کی حمایت کی تھی۔

عمران خان کے خلاف بغاوت کرنے والے پنجاب اسمبلی کے 25 ارکان کےخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنسز پر فیصلہ سنایا۔

نااہلی کا تحريری فيصلہ

تحریک انصاف کے 25 ارکان پنجاب اسمبلی کی نااہلی کا تحريری فيصلہ بھی جاری کردیا گیا۔

تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ ارکان نےوزیراعلیٰ کے انتخاب میں مخالف جماعت کے امیدوارکو ووٹ دیا اور مخالف امیدوار کو ووٹ ڈالنے سے انحراف ثابت ہوگیا۔

تحریری فیصلے کےمطابق الیکشن کمیشن منحرف ارکان کے خلاف ڈکلیئریشن منظورکرتا ہے اور منحرف ارکان کی پنجاب اسمبلی کی رکنیت ختم کی جاتی ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ مخالف امیدوار کو ووٹ دینا پارٹی پالیسی سے دھوکہ دہی کی بدترین شکل ہے۔

الیکشن کمیشن کے باہر تحریک انصاف کے رہنما اسدعمر نے میڈیا سے بات کرتےہوئے بتایا کہ قوم نے جس طرح ضمیروں کی بولی لگتے دیکھی تھی،آج اس گھناؤنی سیاست کا باب بند ہوا۔

انھوں نے کہا کہ یہ لوگ پیسہ لگاتے ہیں،حکومت میں آتے ہیں اور مزید پیسہ کماتے ہیں، اس ہی لئے عمران خان نے ہمیشہ اس قسم کی سیاست کے خلاف آوازاٹھائی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی کے رہنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی اور سب سے بڑے صوبے میں کسی کو پتہ نہیں چل رہا کہ وزیراعلی کون ہے اورگورنرپنجاب کون ہے۔

فواد چوہدری

اس کےعلاوہ سماء سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بتایا کہ پنجاب میں نمبر گیم یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ق) کے173 اراکین موجود ہیں۔حمزہ شہباز کے پاس 172 اراکین موجود ہیں۔ پنجاب میں ق لیگ چاہتی ہے کہ اسمبلی موجود رہنی چاہئے۔

میاں محمود الرشید

تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے اس فیصلے پر بیان دیا کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنا خوش آئند ہے اوراس فیصلے سے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

محمود الرشید نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے لوٹوں کی خریدو فروخت ہمیشہ کے لئے رک جائے گی اوراس فیصلے سے تحریک انصاف کے موقف کو تقویت ملی ہے،سیاسی جماعتوں کو بلیک میل کرنے کا خاتمہ بھی ہوگا۔

محمود الرشید نےمطالبہ کیا کہ حمزہ شہباز کو فی الفوروزارت اعلیٰ کاعہدہ چھوڑ دینا چاہیئے۔

عبدالعلیم خان

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عبدالعلیم خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کا وہ واحد احسان بھی سر سے اترگیا جو صوبائی اسمبلی کی سیٹ کی صورت میں کیا گیا تھا۔

پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم

الیکشن کمیشن کی جانب سےپنجاب اسمبلی کے 25 منحرف اراکین کا ووٹ کالعدم قرار دینے کے بعد نمبر گیم تبدیل ہوگیا ہے۔ منحرف اراکین کا ووٹ کالعدم ہونے کے باوجود حکومتی اتحاد کے پاس سادہ اکثریت برقرار ہے اور حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر صرف 3 ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔

پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے پاس اس وقت 172 اراکین کی حمایت ہے۔ مسلم لیگ نون کے پاس پنجاب اسمبلی ایوان میں 165 اراکین ہیں جب کہ مسلم لیگ نون کے 4 اراکین منحرف ہوچکے ہیں،4 اراکین منحرف ہونے کے بعد تعداد 161 رہ گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے7،آزاد اراکین3 اورراہ حق پارٹی کا ایک رکن بھی اتحاد میں شامل ہے۔

ادھر تحریک انصاف اور ق لیگ کے پاس 168 اراکین کی حمایت ہے۔ تحریک انصاف کے پاس ایوان میں 183 اراکین ہیں،منحرف اراکین کےبعد تحریک انصاف کے پاس 158 اراکین پنجاب اسمبلی باقی رہ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ ق کے پاس پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 10 اراکین ہیں،ایک آزاد رکن چودھری نثاربھی اپوزیشن اتحاد میں شامل ہیں۔371 کے ایوان میں 1 آزاد امیدوار جعلی ڈگری کیس میں نااہلی ہوچکے ہیں۔

ELECTION COMMISSION

Tabool ads will show in this div