سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کا جواب حکومت پاکستان دے گی،مریم اورنگزیب

ملک میں نیشنل ایکشن پلان کو 4 سال نظرانداز کیا گیا

وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نےکہا ہےکہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کا جواب حکومت پاکستان دے گی،جتنی بھی تقرریاں ہورہی ہیں وہ حکومت کا استحقاق ہے۔

قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ملک میں نیشنل ایکشن پلان کو 4 سال نظرانداز کیا گیا تاہم اب دوبارہ نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تاہم پچھلے 4 سال میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ ایک شخص کی انا نےسب کو نظر انداز کردیا،اس میں دہشت گردی سمیت پانی کا مسئلہ اور پولیو کا مسئلہ بھی شامل ہے۔اس شخص کی جانب سے سب اکائیوں کو نظرانداز کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان ہم سے بات نہیں کرتے تھے تاہم شہباز شریف نے پہلی میٹنگ ہی دہشت گردی سے متعلق کی اوروزیراعظم شہبازشریف مسائل کے حل کے لیے صوبوں اور دیگر سے ملاقاتیں کرچکے ہیں جب کہ پانی سے متعلق مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بات کی جائے گی۔

وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کا جواب حکومت پاکستان دےگی، جتنی بھی تقرریاں ہورہی ہیں وہ حکومت کا استحقاق ہے۔ مریم اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ سپریم کورٹ نے جو سوالات پوچھے ہیں، حکومت مفصل جواب دے گی، ایگزیکٹیو نے حکومتی ادارے چلانے ہیں،کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہوئی جو قانون کے خلاف ہو۔ سابقہ حکومت پر تنقید کرتےہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 126 دن کا دھرنا دیا،4 سال کرسی پربھی رہ کردھرنا ہی دیا تھا،تحریک انصاف نے سیاسی مقاصد کے لیےملکی معیشت تباہ کردی۔ وزیراطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھرنا پی ٹی آئی کا مقدر اور ہمارا مقدرعوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

mariam auragzaib

Tabool ads will show in this div