وفاقی وزارت تعلیم نے خالی آسامیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کردیں

وفاقی تعلیمی اداروں میں لیکچرزاورسبجکیٹ اساتذہ کی 922 آسامیاں خالی ہیں

قومی اسمبلی اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و تربیت نے خالی آسامیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کردیں۔

وزارت تعلیم کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں وفاقی تعلیمی اداروں میں لیکچرزاورسبجکیٹ اساتذہ کی 922 آسامیاں خالی ہیں جب کہ خالی آسامیوں پر بھرتی کیلئے 693 آسامیاں ایف پی ایس سی کوارسال کردی گئی ہیں۔

وزارت وفاقی تعلیم کی جانب سے بتایا گیا کہ 229پروموشن کوٹہ آسامیوں کا کیس تیار کیا جا رہا ہے۔

اس کےعلاوہ ملک میں 85 اضلاع سرکاری یونیورسٹی کی سہولت سے محروم ہیں اور وزارت وفاقی تعلیم نے اضلاع کی تفصیلات بھی پیش کردی ہیں۔

ملک میں 85 اضلاع کو مکمل سرکاری یونیورسٹیز کی سہولت نہیں جن میں بلوچستان کے 25،خیبر پختونخوا کے 6 اضلاع سرکاری یونیورسٹی کی سہولت سے محروم ہیں۔

تحریری جواب میں یہ بھی بتایا کہ پنجاب کے 19،سندھ کے 16 اضلاع میں مکمل سرکاری یونیورسٹی کی سہولت نہیں ہے۔

اس کےعلاوہ آزاد کشمیرکے5 جبکہ سابقہ فاٹا اور گلگت کے 7،7 اضلاع مکمل سرکاری یونیورسٹیز سے محروم ہیں۔

تحریری جواب میں یہ بھی بتایا کہ 24 اضلاع میں پبلک سیکٹر ایچ ای آئیز کمیپس بھی موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات 19 مئی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان صدیقی کی زیر صدارت ہوا جس میں سینیٹر اعجاز احمد چودھری نے یکساں قومی نصاب کے بارے میں میڈیا رپورٹس کے جانب کمیٹی ارکان کی توجہ مبذول کروائی۔ متعلقہ وزارت کے حکام نے بتایا کہ میڈیا رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں۔ یکساں قومی نصاب وفاقی اورخیبر پختونخوا میں اپنایا جا چکا ہے۔ پنجاب میں کابینہ نہ ہونے کی وجہ سے نئے نصاب کی منظوری تعطل کا شکار ہے۔ زیادہ تر میڈیا رپورٹس پنجاب کے حوالے سے ہی ہیں۔ سینیٹرمہتاب حسین دہر نے حکام سے سوال کیا کہ نصابی کتب میں بہت سی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس پر محکمہ نے ابھی تک کیا کاروائی کی ہے؟۔

حکام نے کمیٹی کوآگاہ کیا کہ کتب میں غلطیوں کی تصیح کی جا چکی ہے اور نظرثانی شدہ کتابیں خیبر پختونخوا اور وفاق میں فراہم کردی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نصابی کُتب میں غلطیوں کی تصیح ایک مسلسل عمل ہے۔

سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ یکساں قومی نصاب ترتیب دیتے ہوئے اقلیتی برادری کے نمائندوں سے بھی مشاورت کے جانی چاہیے تھی۔ نصابی کتب میں نفرت پرمبنی مواد کو نکالا جانا چاہیے اور اقلیتی برادری کے بچوں کو اسلامیات کی تعلیم کے لیے زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔

حکام نے بتایا کہ اس حوالے سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے یکساں قومی نصاب کی کُتب کو کلیئرکردیا ہے۔ اقلیتی برادری کے طالب علموں کو انکے مذہب کے مطابق تعلیم کے لیے مختلف مذاہب کی کُتب شامل کی گئی ہیں۔

سینیٹردنیش کمار نے تجویز دی کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے مضامین کوصرف اقلیتی برداری کے اساتذہ پڑھائیں۔

تعلیم

Tabool ads will show in this div