دعا زہرا کےشوہر کےاہل خانہ کی ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

درخواست میں پنجاب پولیس کوفریق بنایا گیا

لاہورہائیکورٹ میں دعا زہرا کے شوہرظہیر کی والدہ اور بھائی نے حراساں کرنے کے خلاف درخواست دائر کردی۔

ہائیکورٹ میں درخواست ظہیرکی والدہ نور بی بی نے دائر کی۔ درخواست میں پنجاب پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔ موقف اختیار کیا گیا کہ دعا زہرا اور ظہیر احمد نے مرضی سے پسند کی شادی کی لیکن پنجاب پولیس پورے خاندان کوحراساں کررہی ہے۔

استدعا کی گئی کہ عدالت پنجاب پولیس کوحراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔

دعا زہرا کی عمرکے تعین کے لیے درخواست مسترد

لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری نے دعا زہرا کی عمرکے تعین کے لیے میڈیکل کی درخواست مسترد کردی۔

لاہور کی ماڈل ٹاؤن کچہری میں دعا زہرا کے میڈیکل کے لیے کراچی کے تفتیشی افسر نے درخواست دائر کی تھی۔

عدالت نےریمارکس دئیے کہ دعا زہرا کی مرضی کے بغیر میڈیکل کروانے کا حکم نہیں دیا جاسکتا اور کسی بھی لڑکی کے میڈیکل کا حکم اس کی اجازت بغیر نہیں دیا جا سکتا ہے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ دعا زہرا کمرہ عدالت میں موجود نہیں ہے اور اس لئے تفتیشی افسر نے درخواست مناسب جواز کے بغیر دائر کی،اس لیے خارج کی جاتی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ

ادھرسندھ ہائيکورٹ نے آئی جی سندھ کو دعا زہرا کو آئندہ سماعت پر پيش کرنے کاحکم دے ديا۔ عدالت نے پولیس پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے ریمارکس دئیے کہ بچی ویڈیوبنارہی ہے،پریس کانفرنس کررہی ہے تاہم پولیس کونہیں مل رہی۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ کیاریاست اتنی کمزورہوگئی ہے۔ عدالت نے ایس ایس پی اے وی سی سی زبیر نذیر شیخ کو توہین عدالت کانوٹس جاری کردیا۔ تفتیشی افسر سے یہ بھی استفسار کیا گیا کہ اگر بطی مطلوبہ پتے پر نہیں مل رہی تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ نہ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ واضح رہے کہ دعازہرا کے والدین نے عدالت میں بچی کے مبینہ اغوا کا کیس دائر کر رکھا ہے۔

DUA ZEHRA

Tabool ads will show in this div