گورنرپنجاب عمرسرفرازچیمہ کی درخواست پرلارجربنچ تشکیل

عمرسرفرازچیمہ اپنےوکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے

اسلام آباد ہائی کورٹ نےگورنرپنجاب عمرسرفرازچیمہ کی درخواست پرلارجر بنچ تشکیل دے دیا۔

اسلام آبادہائی کورٹ میں عمرسرفرازچیمہ کی بطورگورنرپنجاب برطرفی کے خلاف درخواست پرسماعت ہوئی۔

عمرسرفراز چیمہ کی درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات عائد کئے گئے تھے۔ عمر سرفراز چیمہ اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ بابراعوان نےعدالت کو بتایا کہ رجسٹرار آفس نے 2 اعتراض عائد کئے اور کہا گیا کہ برطرفی کے نوٹیفکیشن کی واٹس ایپ کاپی لگائی گئی جبکہ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ صدر مملکت کا کیا اختیار ہے اور کہاں ان پر بائنڈنگ ہیں،یہ سب طے شدہ ہے۔ بابراعوان نے بتایا کہ ایک صدر کے اختیارات ہیں،دوسرے اس کےفنکشن ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پارلیمانی نظام حکومت ہے،صدارتی نظامِ حکومت نہیں۔ چیف جسٹس نے بابر اعوان کو ہدایت کی کہ صدر کے اختیارات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پڑھ کرآئیں۔

چیف جسٹس نےبابراعوان سے مکالمہ کیا کہ جب آپ وزیر قانون تھے تب معاملہ طے پاگیا تھا کہ گورنر کی تعیناتی کس کا اختیار ہے۔ اس پر بابر اعوان نے کہا کہ وہ معاملہ الگ تھا اور یہ معاملہ الگ نوعیت کا ہے۔

عمرسرفراز چیمہ کی درخواست پر عدالت نے اعتراضات ختم کردئیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کی درخواست پرلارجر بنچ تشکیل دے دیا۔عدالت نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

برطرفی کا نوٹیفیکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج

واضح رہے کہ عمرسرفراز چیمہ نے10 مئی 2022 کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ معزول گورنرپنجاب عمر سرفراز چیمہ نے وکیل بابراعوان کےذریعے درخواست دائرکی۔

عمرسرفرازچیمہ نےعدالت سےاستدعا کی کہ 10مئی کے وفاق کے نوٹیفیکیشن کوغیرقانونی وغیرآئینی قراردیا جائےاوربطورگورنربرطرفی کا آرڈرکالعدم قراردیا جائے۔ پنجاب میں ایک شخص جو اختیارات استعمال کررہا ہے وہ غیرقانونی ہے۔

درخواست گزار عمرسرفرازچیمہ نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم شہبازشریف نےاپنے بیٹے کو فائدہ دینےکیلئےغیرقانونی عہدے سے ہٹایا اور کابینہ ڈویژن نوٹیفکیشن جاری کروانے والوں کےخلاف بھی کارروائی کرے۔ عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے مطابق گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہے اور گورنر پنجاب ایگزیکٹو کا حصہ نہیں ہوتا، صدر کی خوشنودی پر گورنر عہدے پر قائم رہ سکتا ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ برطرفی کا نوٹیفکیشن بلا اختیار اور ماورائے آئین ہے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق صدر کےاختیارات کو رولز کے تحت ختم نہیں کیا جاسکتا۔درخواست گزار نے کہا ہے کہ پنجاب میں آئینی بحران پیدا کردیا گیا ہے۔

ISLAMABAD HIGH COURT

Tabool ads will show in this div