سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل کیسز کے تفتیشی افسران کے تبادلے روک دئیے

یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا شرمندہ کرنے کیلئے نہیں ہے،چیف جسٹس
May 19, 2022

سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل کیسز کے تفتیشی افسران کے تبادلے تا حکم ثانی روک دئے۔

چیف جسٹس پاکستان عمرعطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل 5 رکنی بینچ فوجداری مقدمات میں حکومتی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت کر رہا ہے۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ازخود نوٹس کیس میں تیار کی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل ہیں، پیپر بک نمبر دو میں ڈاکٹر رضوان کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت کا ذکر ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو ہٹا یا گیا، بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ای سی ایل سے 4 ہزار سے زائد افراد کے نام نکالے گئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا طریقہ کار کیا تھا؟

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے جان بوجھ کر کیے گئے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے، آپ براہ راست ای سی ایل سے نام نہیں نکال سکتے۔

جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار ہوتا ہے تو نکالنے کا بھی ہے۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے، ازخود نوٹس لینے کا ہمارا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس سماعت کا مقصد کسی کو خفا کرنا نہیں، یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے،اس وقت ہم کوئی رائے نہیں دے رہے، ہم لوگوں سے قانون کی حکمرانی کا وعدہ کیا ہے، امید کرتا ہوں کی وفاقی حکومت پولیس کے ساتھ تعاون کرے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آج کئی سیاسی پارٹیوں کے مضبوط سوشل میڈیا سیکشنز ہیں، ہم سوشل میڈیا کی تمام چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور آپس میں بات کرتے ہیں، ہم کسی کی تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہیں، عدالت فیصلہ کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبرائی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان دیا، وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے؟ کراچی اور لاہور میں عدالتوں میں ججز موجود نہیں، کیا آپ کواس بارے میں معلوم ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ہمارے ملک کے کرمنل جسٹس سسٹم کے بارے میں خبریں آئیں، تمام کرمنل کیسز کو سنبھالنے رکھنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے، آپ اس ساری صورت حال کا جائزہ لیں۔

عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ وہ نام جمع کرائے جائیں جن کے نام ای سی ایل سے اس دوران نکالے گئے، ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائیں گے، گزشتہ 6 ماہ کے دوران استغاثہ اور تفتیشی اداروں میں تقرریوں کے بارے میں تفصیل جمع کرائی جائیں۔

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب، سیکریٹری داخلہ، صوبائی پراسیکوٹر جنرلز، سربراہ پراسیکیویشن اور ایف آئی اےکو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت جمعے تک کے لیے ملتوی کردی۔

fia

SCP

supreme court of pakistan\

Tabool ads will show in this div