غیرضروری اور لگژری اشیاءکی درآمد پر مکمل پابندی کا فیصلہ

درآمد پر زرِمبادلہ خرچ نہیں ہونے دینگے

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں غیر ضروری اور لکژری اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیاہے۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بدھ 18 مئی کو غیر ضروری اور پرتعیش اشیاء کی درآمد سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دیگر ممالک سے منگوائی جانے والی اشیا کی فہرست وزیراعظم کو پیش کی گئی۔

حکام کی جانب نسے پرتعیش اشیا کی مد میں اخراجات کی تفصیلات سے متعلق اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے غیر ضروری اور لگژری اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی کا کا حکم جاری کیا۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ پرتعیش اشیاء کی درآمد پر زرِمبادلہ خرچ نہیں ہونے دینگے۔ فی الحال حکومت کی جانب ان اشیا کی فہرست سے متعلق کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ضروری آئٹمز کی امپورٹ پر پابندی سے روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں ہوگی، وزیراعظم نے امپورٹ ایکسپورٹ بل میں فرق کی وجہ سے پابندی عائد کی ہے۔

ذرائع کے مطابق درآمد پر عائد پابندی والی اشیاء میں لگژری گاڑیوں سمیت کاسمیٹکس کے سامان اور دیگر غیر ضروی اشیاء شامل ہیں، تاہم حکومتی سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے پرتعیش اشیا اور غیر ضروری اشیا پر پابندی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی حکام پر بجلی، پیٹرول اور گیس کی مد میں دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کیلئے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی 86 روپے 71 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کا سالانہ ہدف 1100 ارب روپے تک بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

Economy

IMRAN KHAN

ShahbazSharif

MONEY.

Tabool ads will show in this div