مانیٹری پالیسی: شرح سود میں کتنا اضافہ ہوسکتا ہے؟

فیصلہ 23 مئی کو اسٹیٹ بینک کرے گا

اسٹیٹ بینک کی جانب سے 23 مئی کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا، جس میں سب سے اہم فیصلہ شرح سود کے حوالے سے ہوگا کہ آئندہ ڈیڑھ ماہ کیلئے شرح سود میں اضافہ ہوگا کمی ہوگی یا برقرار رکھا جائے گا؟۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 7 اپریل کو اسٹیٹ بینک نے ہنگامی طور پر مانیٹری پالیسی کا اعلان کرکے شرح سود میں 250 بیسز پوائنٹس یعنی 2.5 فیصد کا اضافہ کیا تھا جس سے شرح سود 12.25 فیصد ہوگیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی کے بعد بھی مہنگائی کی بلند شرح برقرار ہے، ٹی بلز پر منافع کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور 15 فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے، اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ بھی برقرار ہے، جس کے پیش نظر قومی امکان ظاہر کیا جارہا ہے، شرح سود میں اضافہ کیا جائے لیکن یہ اضافہ کتنا ہوگا، اس بارے میں مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ عارف حبیب گروپ کی جانب سے آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں متوقع تبدیلی کے حوالے سے بینکنگ، انشورنس اور مالیاتی اداروں سے منسلک افراد کا سروے کیا گیا ہے، جس کے نتائج کے مطابق 85 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافہ ہوگا جبکہ 15 فیصد کا خیال ہے کہ اضافہ نہیں ہوگا۔ سروے میں جن 8 فیصد افراد کا خیال ہے کہ شرح سود میں مزید اضافہ ہوگا ان میں 54 فیصد کا خیال ہے کہ ایک فیصد شرح سود میں اضافہ ہوگا اور 15 فیصد کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، 5 فیصد کی رائے ہے کہ 50 بیسز پوائنٹس یعنی 0.5 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ 4 فیصد 200 اور 4 فیصد 200 سے زائد بیسز پوائنٹس اضافے کی توقع ظاہر کررہے ہیں۔

state bank of pakistan

sbp

Tabool ads will show in this div