ہیٹ اسٹروک؛ فالج ہی نہیں دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے، ماہرین

گرمی کے اوقات میں ورزش سے منع کیاجاتا ہے کیونکہ جسمانی مشقت ہیٹ ویو میں خطرناک ہوتی ہے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ افراد کو فالج کے ساتھ دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ اسٹروک کی صورت میں صرف فالج نہیں ہوتا ہے، اس سے ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے، بلڈ پریشر بھی بڑھتا ہے اور انسان کی زندگی خطرات سے دوچار ہوجاتی ہے۔

جناح اسپتال کراچی کی سابق ایگزیکٹو اور ایمرجنسی سروسز کی ماہر ڈاکٹر سیمی جمالی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہیٹ ویو انسان کو تین طرح سے متاثر کر سکتی ہے، ایک اثر اس کا بہت معمولی ہے جس سے جلد سرخی مائل سی ہوجاتی ہے۔

دوسرا ہیٹ ایگزاکشن (heat exhaustion) ہوتا ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، اس میں جسم میں پانی اور نمکیات کی مقدار کو بہتر بناکر متاثرہ شخص ٹھیک ہوجاتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک میں مریض کی حالت غیر ہوجاتی ہے، ہیٹ اسٹروک سے جسم کا درجہ حرارت بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور جسم ٹھنڈا نہیں ہو پاتا، اس حالت میں مریض بےہوش بھی ہو سکتا ہے۔ بہت زیادہ دھوپ میں رہنے، دھوپ میں مسلسل کام یا جسمانی مشقت کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ ہیٹ اسٹروک اس وقت ہو سکتا ہے جب انسانی جسم کا درجہ حرارت 104 فارین ہائیٹ یا اس سے زیادہ ہوجائے، ہیٹ اسٹروک کی ایک اور وجہ پانی کی کمی ہے، پانی کی کمی کا شکار شخص گرمی کو ختم کرنے کے لیے اتنی تیزی سے پسینہ نہیں نکال سکتا، جس کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک انسانی جسم کے کولنگ سسٹم متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے، انسان کو فٹس پڑتے ہیں، ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ افراد کم ہی بچتے ہیں، پوری دنیا میں ہیٹ اسٹروک سے بڑی تعداد میں لوگ مرتے ہیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کو گرمی لگے یا ہیٹ اسٹروک ہوجائے تو اسے ٹھنڈی جگہ رکھیں، پنکھا چلا دیں ، اگر اے سی ہو تو اے سی چلائیں، کمرے میں ہوا کے گزر کا بندوبست کریں، بغل میں آئس پیک رکھے جائیں، سر پر گیلے تولیہ رکھیں، پانی اور پھلوں کے شربت دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے بھی ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے، اگر کسی کو پہلے کوئی دائمی بیماری ہو، بلڈ پریشر یا دل کا عارضہ لاحق ہوتو ایسے لوگوں کی زندگی کی لیے جان لیوا ہوتا ہے، گرمی کے اوقات میں ورزش سے منع کیاجاتا ہے کیونکہ جسمانی مشقت ہیٹ ویو میں خطرناک ہوتی ہے، ہم نے 2015 میں ہیٹ ویو دیکھا تھا بڑی تعداد میں ہیٹ اسٹروک سے اموات ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ کراچی کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے، دھواں چھوڑتی گاڑیاں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کر رہی ہیں، درخت ختم ہوتے جا رہے ہیں تو  جس کے نتیجے میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

دل کی بیماریوں کے ماہر اور پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر فیروز میمن نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہیٹ ویو میں لوگ سمجھتے ہیں متاثرہ شخص کو ہیٹ اسٹروک ہوگا، لُو لگ جائے گی اور ٹھیک ہوجائے گا۔

ہیٹ ویو کی وجہ سے انسان کو ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی ) ہوتا ہے، پسینے بہنے سے شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول میں نہیں رہتا، انسان کا خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر فیروز میمن کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہیے شدید دھوپ کے اوقات میں کم سے کم گھر سے باہر نکلیں، پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں، گھر سے نکلنا مجبوری ہوتو سر ڈھانپ کر نکلیں، پانی یا کوئی فریش جوس ساتھ لے کر نکلیں، جسے وقفے وقفے سے پیتے رہیں۔ گرمیوں میں ہلکے رنگ کے نرم کپڑے پہنیں، ہم نے دیکھا ہے ماضی میں لوگ گرمیوں میں سفید رنگ کی پینٹ شرت پہنتے تھے کیونکہ گہرا یا سیاہی رنگ دھوپ کو اندر جذب کرلیتا ہے اور پھر جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات یاد رکھیں ، اسٹروک کی صورت میں صرف فالج نہیں ہوتا ہے، اس سے ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے، بلڈ پریشر بھی بڑھتا ہے اور انسان کی زندگی خطرات سے دوچار ہوجاتی ہے۔

HEAT WAVE

hot day

Tabool ads will show in this div