ہراسانی کا واقعہ: اٹلی میں پاکستانی سفیر برطرف

سفیر پر 50 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد

اٹلی میں ہراسانی کے واقعہ میں الزامات ثابت ہونے پر پاکستانی سفیر کو برطرف کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کی جانب سے ہرسانی کے الزامات ثابت ہونے پر اٹلی میں پاکستانی سفارت خانے کے ہیڈ آف مشن کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتہ 14 مئی کو جاری کیے گئے انسداد ہراسیت محتسب کے فیصلے کے مطابق اٹلی میں پاکستان کے ہیڈ آف مشن ندیم ریاض کے خلاف وزارت کامرس کی گریڈ 20 کی افسر سائرہ امداد کی جانب سے دفتر میں ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

انسداد ہراسیت محتسب کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الزامات ثابت ہونے پر نوکری سے برخواست کیے جانے کے ساتھ ندیم ریاض پر 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جو شکایت کنندہ کو دیا جائے۔ سوشل میڈیا پر جاری دستاویزات کے مطابق ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سات روز میں فیصلے پر عمل درآمد کی کاپی وزارت خارجہ کو ارسال کی جائے۔

وزارت کامرس کی افسر سائرہ امداد نے ندیم ریاض پر چار سال قبل 2018 میں ہراسگی کے الزامات لگاتے ہوئے وفاقی محتسب کے پاس شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت کنندہ افسر نے کہا تھا کہ جب وہ اٹلی کے پاکستانی مشن میں تعینات تھیں تب ہیڈ آف مشن ندیم ریاض نے اُن کو دوسرے ملکوں میں ایسے شہروں کے دورے کیلئے کہا جو اُن کی ملازمت سے متعلقہ نہ تھے، جب کہ ان دورے کے دوران مذکورہ افسر نے شکایت کنندہ کو اپنی رہائش ہیڈ آف مشن کی رہائش کے قریب رکھنے کیلئے مجبور کیا تھا۔

شکایت میں یہ بھی لکھا گیا کہ ندیم ریاض نے خاتون افسر کو روزانہ کی بنیاد پر ایسی باتیں سننے پر مجبور کرتے تھے، جس میں قابل اعتراض زبان استعمال کی جاتی تھی، جب کہ تعیناتی کے دوران خاتون افسر کے گھر کی بجلی بھی بند کردی گئی تھی۔ جاری دستاویزات کے مطابق سفارت خانے کی جانب سے خاتون افسر کو مقرر کردہ تنخواہ کی ادائیگی بھی روک دی گئی تھی، جب کہ دفتری کام کی انجام دہی کیلئے انہیں مترجم بھی مہیا نہیں کیا گیا تھا، جس سے دفتری کام انجام دینے میں انہیں مشکل کا سامنا تھا۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق کی جانب سے بھی ٹوئٹ میں واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میرا مقصد ہے کہ کام کی جگہ پر ہراساں کرنے سے متعلق شکایات کا ازالہ کیا جائے، تاکہ ہر شخص وقار کے ساتھ اور محفوظ ماحول میں کام کر سکے۔ خواتین کو چاہیئے کہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں اور ایسے واقعات کی نشاندہی کریں۔ ہمیں اپنی خواتین اور لڑکیوں کیلئے آنے والے دنوں کو محفوظ بنانا ہے۔

کشمالہ طارق کی ٹوئٹ کے جواب میں متاثرہ خاتون سائرہ امداد علی نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا میں نے طویل عرصے کی جدوجہد کے بعد ہراسیت کے خلاف دائر اپنا مقدمہ جیت لیا ہے۔ یہ انصاف کیلئے ایک لمبی لڑائی تھی، اس موقع پر میں وکیل کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں، جب کہ کشمالہ طارق کا بھی شکریہ ، جنہوں نے صبر کے ساتھ میرا فیصلہ سنا اور انصاف پر مبنی فیصلہ کیا۔

italy

ambassador

harrassment

Pakistan Latest News

Tabool ads will show in this div