لاہور میں ناقص ادویات کا استعمال، مزید دو مریض چل بسے

اسٹاف رپورٹ
لاہور : ناقص ادویات کے رد عمل سے  مزيد دو افراد دم توڑ گئے  جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو تیس ہوگئی ہے۔


پنجاب حکومت نے غیرملکی لیبارٹری کی رپورٹ پرآئی سو ٹیب نامی دوا کو تو جان لیوا قراردے دیا ہے، لیکن اس سے قبل غیر معیاری ٹھہرنے والی ادویات  کا اب کہیں تذکرہ ہی نہیں، تاحال پوری طرح معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچا جاسکا۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ادویات سے رد عمل کا معاملہ دسمبر 2011 سے شروع ہوا، مگر ابتدا میں تو اندازہ ہی نہ ہوا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔


ادویات کے ری ایکشن کا شکار مریضوں کو شروع میں ڈینگی سے متاثرہ افراد قراردیا گیا کیونکہ شہرکے مختلف اسپتالوں میں جو مریض لائے گئے ان میں ڈینگی سے مشابہ علامات پائی گئی تھیں


مگر جب ہلاکتيں بڑھنے لگيں تو کلینکل تحقیقات پرانکشاف ہوا کہ ان تمام مریضوں کو دل کا عارضہ ہے اوریہ مختلف اوقات میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرعلاج رہےہیں۔

صورت حال کا علم ہونے پرپنجاب حکومت نے 18 جنوری کو پی آئی سی میں استعمال کرائی جانیوالی پانچ قومی ادویہ ساز کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات


سولو پرن، اٹی نولول، کون کانٹ، کاڈیوویسٹن اور آئسو ٹیب پرپابندی عائد کردی گئی۔ پہلے مرحلے میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے متاثرہ ادويہ میں سے کارڈیوویسٹن کی گولیوں پردھبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے ناقص قراردیا۔

کچھ ہی روز بعد ایٹی نولول نامی دوا کو بھی ناقص کہا جانے لگا اور پھر الفاگرل کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔


انہی رپورٹس کی روشنی میں تین فارما سیوٹیکلزکمپنی مالکان کو ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا اور اب لندن سے ملنے والی تجزیاتی


رپورٹ کی روشنی میں خادم اعلیٰ پنجاب نے افروز کیمیکلز کراچی کی تیارکردہ دوا آئسوٹیب کو ناقص قرار دیتے ہوئے مریضوں ميں ري ايکشن کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔


جب کہ باقی متاثرہ ادویات کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مرحلہ شروع ہوسکے۔ سماء

میں

لاہور

کا

arabs

director

solar

filter

Tabool ads will show in this div