ریکوڈک کیس،کان پاکستان میں ہےتوعالمی عدالت کیوں جائیں،چیف جسٹس

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : چیف جسٹس نے ریکوڈک گولڈ مائن کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ سونے کی کان پاکستان میں ہے پھر عالمی ثالثی عدالت میں جانا اداروں کی اتھارٹی کم کرنے کی کوشش ہے۔  سماعت سات فروری تک ملتوی کردی گئی۔

عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ریکوڈک گولڈ مائن کیس کی سماعت کی ۔ پٹیشنر کے وکیل رضا کاظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پچیس مئی کا فیصلہ جامع تھا۔

تیتیان کمپنی اب معاملے کو عالمی ثالثی ٹربیونل میں لے گئی، رضا کاظم کا کہنا تھا کہ سیکریٹری مائننگ کے پاس فیصلے کیخلاف حکومت بلوچستان کی اپیل زیرکار ہے، یہ کیس دو جگہوں پر ایک ساتھ نہیں چل سکتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ملک کے عدالتی نظام کی کسی کو پروا نہیں ،بادی النظر میں یہ سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو انڈر مائن کرنے کی کوشش ہے۔


تیتیان کمپنی کے وکیل خالد انور نے کہا کہ معاہدے کے تحت بیرونی سرمایہ کاری کا تحفظ ضروری تھا۔ حکومت پاکستان نے اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پیروی نہیں کی۔


پٹیشنر کے وکیل رضا کاظم  نے کہا کہ تیتیان کمپنی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ بدنیتی پر مبنی، آئین اور قانون کے خلاف تھا۔ سماء

میں

records

Tabool ads will show in this div