قومی اسمبلی،20ویں آئینی ترمیم پرکارروائی موخر،کالعدم تنظیمیوں پرپابندی کامطالبہ

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : ارکان قومی اسمبلی نے اسلام آباد میں کالعدم تنظیموں کے جلسوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے.


وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ پابندی کیلئے انسداد دہشت گردی قانون کا منظور ہونا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی میں بیسویں ترمیم پر کارروائی مؤخر کردی گئی ہے۔

ارکان قومی اسمبلی کو کالعدم تنظیموں کی اسلام آباد میں سرگرمیوں پر تشویش ہے اور اسی بات کا اظہار اجلاس میں بھی  کیا گیا۔ شیخ وقاص اکرم کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے۔

وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم تنظیموں نے اسلام آباد میں کوئی جلسہ کیا ہے تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ کالعدم تنظیمیں اپنے نام سے نہیں بلکہ کسی اور نام سے جلسے کرتی ہیں ۔

صاحبزادہ فضل کریم اور حامد سعید کاظمی نے بھی کالعدم تنظیموں کے جلسوں پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ وزیر مذہبی امور خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عید میلاد النبی کے احترام میں بیسوویں ترمیم اب پیر کو پیش کی جائے گی۔

وزیراعظم گیلانی نے بتایا کہ عید میلاد النبی کے احترام میں ہفتہ کو پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اسپتالوں اور ہیلتھ اسٹبلشمنٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ اضافی دی جائے گی۔


بعد میں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ سماء

detention

promise

highway

rekha

Tabool ads will show in this div