خان صاحب غلطی کی گنجاش کوئی نہیں

May 19, 2016

Imran-Khan-and-Nawaz-Sharif-680x408

کسی شخص کے بیٹے نے گدھے کا گوشت کھا لیا وہ شخص بھاگا بھاگا علاقے کے مولوی صاحب کے پاس گیا کہ میرے بیٹے نے غلطی سے گدھے کا گوشت کھا لیا ہے، مولوی صاحب نے کہا توبہ توبہ یہ کیا کیا یہ تو حرام ہے، شریعت کیخلاف کام ہوا ہے، وہ شخص سخت پریشان ہوا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا کہ میرے بیٹے کے ساتھ آپ کا بیٹا بھی شامل تھا، مولوی صاحب کے چہرے کا رنگ یکدم بدل گیا اور نرم لہجے میں بولا کہ جو گوشت کھایا تھا اس میں گدھے کی دم تو شامل نہیں تھی وہ شخص بولا نہیں، مولوی صاحب فوراً بولے پھر گنجائش بنتی ہے۔

یہ واقعہ جہانگیر ترین اور علیم خان کی آف شور کمپنیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان کے حالات دیکھ کر یاد آگیا، اگرچہ پی ٹی آئی کپتان نے براہ راست ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا مگر خاموشی کو بھی نیم رضا مندی ہی سمجھا جاتا ہے، چیئرمین تحریک انصاف کو پہلا اعتراض آف شور کمپنیوں پر یہ تھا کہ میاں صاحب کے بچوں نے یہ کمپنیاں کیوں بنائیں مگر پھر آہستہ آہستہ آف شور کمپنیاں قانونی ہوگئیں۔

اس کے بعد دوسرا اعتراض جو بہت شدت سے سامنے آیا وہ تھا کہ میاں صاحب نے یا ان کے بچوں نے یہ کمپنیاں اب تک چھپا کر کیوں رکھیں، بالکل یہ ایک قابل اعتراض بات تھی، سوال اٹھانا اور تنقید کرنا خان صاحب کا حق تھا مگر جہانگیر ترین نے بھی اچانک منظر عام پر آنیوالی کینیڈا میں خریدی گئی جائیداد چھپا کر رکھی اور بقول ترین صاحب یہ 2011ء سے ہیں اور میاں صاحب کے برعکس یہ ان کی ملکیت ہیں، ان کے بچوں کی ملکیت نہیں ہیں، تو یہ کینیڈا والی جائیداد اثاثوں میں ظاہر کیوں نہ کی گئی، چھپا کر کیوں رکھیں۔

IK NEW STILL 14-04

تیسرا اعتراض جو عمران خان صاحب نے میاں صاحب یا حسین نواز پر کیا اس کے مطابق اچانک ان آف شور کمپنیوں اور کینیڈا والی جائیداد کو منظر عام پر کیوں لایا گیا اور بتایا کہ حسین نواز کو پتا تھا کہ یہ منظر عام پر آنیوالی ہیں، اس لئے پہلے سے خود ہی بتادیا کہ بعد میں زیادہ اعتراض ہوگا، تو سوال یہ ہے علیم خان یا جہانگیر ترین نے پہلے سے خریدی گئی جائیداد کا اچانک انکشاف کیوں کیا؟ کیا ان دونوں کو خطرہ تھا کہ 9 مئی کو منظر عام پر آنیوالے پانامہ پیپرز میں اب ان کا نام بھی آسکتا ہے۔

قطع نظر اس کے کہ نواز شریف وزیراعظم ہیں اور اخلاقیات کا معیار انہیں ہی قائم کرنا چاہئے، میاں نواز شریف صاحب اور عمران خان صاحب کے حالات ایک جیسے نظر آتے ہیں، اب آگے چلتے ہیں ہوسکتا ہے جہانگیر ترین نے رقم پاکستان سے قانونی ذریعے سے کینیڈا بھیجی ہو، جس کا وہ دستاویزی ثبوت کے ساتھ اظہار بھی کرچکے ہیں، ہوسکتا ہے جہانگیر ترین صاحب نے ٹیکس بھی پورا ادا کیا ہو مگر عمران خان صاحب اپنے دائیں بائیں علیم خان اور جہانگیر ترین کو کھڑا کرکے کس طرح میاں صاحب یا ان کے بچوں پر جائیداد چھپانے کیلئے اعتراض کرسکتے ہیں جبکہ ان کے اپنے دونوں ساتھیوں نے وہی کام کیا ہے، وہ کیسے اخلاقیات کی مثال قائم کر سکتے ہیں جسے دائیں بائیں کھڑے لوگ تار تار کرچکے ہوں۔

عمران خان صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ یا تو علیم خان اور جہانگیر ترین صاحب سے بھی وضاحت طلب کریں اور ایمانداری سے فیصلہ کریں، اگر وہ کسی غیر قانونی کام میں ملوث پائے جائیں تو ان سے فوری جان چھڑالیں یا وہ میاں صاحب پر 4 اعتراضات کرنے کی بجائے 2 اعتراضات کریں کہ رقم کینیڈا کیسے گئی، اس پر ٹیکس کتنا دیا لیکن اس دوسری صورت میں عمران خان کا کیس کمزور ہوجائے گا۔

imran-khan-in-abbottabad

ہوسکتا ہے خان صاحب کے ووٹرز میں کچھ ایسے بھی ہوں جو کہ عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے دیوانے ہوں اور خان صاحب جو بھی غلطی کریں وہ قبول کرلیں مگر زیادہ ووٹرز ایسے ہیں جو تبدیلی کیلئے ووٹ دینے نکلے تھے، ایسا حساس ووٹر قول و فعل میں تضاد دیکھتے ہوئے آپ سے کنی کترا جائے گا، جس میں نقصان آپ کا ہوگا کیونکہ نواز شریف کے ووٹرز کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ وزیراعظم اچھے کام کر رہے ہیں، ان کا دوسرا ووٹر وہ ہے جو کہتا ہے نواز شریف اچھے ہیں یا برے مگر ووٹ ن لیگ کو ہی دینا ہے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے خان صاحب اپنے ووٹرز کو کس طرح قائل کریں گے، جو سمجھتے ہیں کہ گدھا پورے کا پورا حرام ہے، اس میں دم والی کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا نیلام گھر والے طارق عزیز صاحب کی زبان میں آپ کے پاس بھی غلطی کی گنجائش نشتا۔

PM

PTI

IMRAN KHAN

PanamaPapers

Tabool ads will show in this div