کیا عمران خان حکومت کو مضبوط کررہے ہیں؟

PTI

اس ميں کوئي شک نہيں کہ 2014 ميں تحريک انصاف اور عوامي تحريک کي ريليوں، جلسوں اور دھرنوں نے مسلم ليگ ن کو کمزور کرنے کي بجائے مزيد مضبوط کيا جسکي جھلک دوہزار پندرہ کے بلدياتي انتخابات ميں ديکھنے ميں آئي اور اسي سال وزيراعظم نوازشريف نے زيادہ پر اعتماد ہوکر ترقياتي منصوبوں پر کام شروع کرديا۔ اسکي وجوہات يقينا عمران خان کا طرز سياست اور مظاہرے کےليے نيت ميں کھوٹ تھا جو دھرنے کے ہر آنے والے دن ميں نماياں ہورہا تھا اور سول نافرمانی سے ليکر وزيراعظم سے استعفي ليے بغير دھرنا ختم نہ کرنے کے اعلانات کے نتائج برعکس آنا شامل ہيں۔

ڈي چوک دھرنے کي ناکامي کے بعد اب پاناما ليکس پر عمران خان کے احتجاجي مظاہرے کے آغاز سے بھي کچھ اسي طرح کے نتائج آنے کے امکانات نظر آرہے ہيں۔ عمران خان نے اسکا آغاز سياسي شہر لاہور سے کيا ليکن سياسي تجزيہ کاروں کے مطابق يہ ايک ناکام کوشش تھي جسکي بہت ساري وجوہات ہيں۔

Pti Jalsa Women Phadda New 2100 Circle Ex 01-05

سب سے پہلي وجہ جلسے ميں شرکت کرنے والوں کي تعداد جو چودہ سے پندرہ ہزار افراد کے درميان تھي۔ جبکہ اسپیشل برانچ والے یہ تعداد 10 سے12 ہزار بتاتے ہیں۔ ليکن تحريک انصاف کے رہنما 50ہزار سے کم پر ماننے کو تيار نہ تھے بلکہ چند رہنماوں نے تو اسے ايک لاکھ افراد تک پہنچا ديا۔ شايد ايک عام سياسي جماعت کےليے 13ہزار افراد والا جلسہ کرنا کاميابي ہوگا ليکن تحريک انصاف نے تو خود ہي 30 اکتوبر 2011 کو مينار پاکستان ميں يادگار جلسہ کرکے جو 'اسٹينڈرڈ' بنايا جس کے متعلق ن ليگي رہنما بھي 70سے80 ہزار افراد کي شرکت کو مان رہے تھے تو پھر اس معيار کے مطابق تو پي ٹي آئي کا چيئرنگ کراس کا جلسہ ناکام ہي ہوگا۔

ناکامي کي دوسري وجہ عمران خان کي وہي باتيں اور مطالبات تھے جو وہ روزانہ دو يا تين پريس کانفرنسز کے ذريعے کرتے ہيں اور جلسے ميں وہ کوئي نئي بات نہيں کرسکے۔

pmln

تيسري اور سب سے اہم وجہ جوکہ مسلم ليگ ن کےلئے 'نعمت' ثابت ہوئی وہ تھي ہلڑ بازي اور خواتين کےساتھ پي ٹي آئي ورکروں کي بدتميزياں۔ اسکو موقع غنیمت سمجھتے ہوئے پرويز رشيد کا کہنا تھا کہ عمران خان يہ بتائيں کہ انہيں خواتين کےليے خاردار تاريں کيوں لگانا پڑتي ہيں اور پھر اسکے باوجود بھی بدتميزي کیوں ہوتی ہے۔

 چوتھي وجہ ہے جب عمران خان اخلاقيات اوراخلاقي قدروں کي بات کرتے ہوئے وزيراعظم سے استعفي مانگتے ہيں تو اسوقت انکے اردگرد جہانگير ترين اور عبدالعليم خان موجود ہوتے ہيں جن پر بھي کرپشن اور فراڈ کےالزامات لگائے جارہے ہيں۔

Jahangir Tareen Lhr Pkg 27-02

ان وجوہات سے تو بظاہر عمران خان کو فائدے کي بجائے نقصان ہوا ہے اور مسلم ليگ ن کو ايک مرتبہ پھر نہ صرف تحريک انصاف پر تنقيد کرنے کا موقع مل رہا ہے بلکہ حکومت مضبوط بھي ہورہي ہے۔ ان تمام وجوہات کے بعد بھي دو صورتيں ابھي بھي باقي بچي ہے جس سے حکومت کو ٹف ٹائم مل سکتا ہے اور وہ ہے دوسري تمام اپوزيشن جماعتوں کا پاناما ليکس پر يک زباں ہوکر وزيراعظم نوازشريف سے استعفے کا مطالبہ کرنا۔ اب ديکھنا ہوگا کہ يہ اتحاد قائم رہ کر اپنے مطالبات منواسکےگا يا پھر وہي راستہ اختيار کرےگا جو پي ٹي آئي پہلے ہي کرچکي ہے۔

PTI

IMRAN KHAN

Panama leaks

Tabool ads will show in this div