بیسویں آئینی ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن نے بیسویں آئینی ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے جسے منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ ایم کیو ایم نے تبدیلیوں پر تحفظات ظاہر کردئے۔۔

حکومت نے ضمنی انتخابات کو آئینی تحفظ دینے کے لئے بیسویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ اپوزیشن نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مطالبات بھی پیش کر دیئے۔ ان میں الیکشن کمشنر کو توسیع نہ دینے۔ ممبران کی مدت پانچ سال کرنے۔۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں پارٹی صدر کو رد و بدل کا اختیار دینے اور اٹھارہویں ترمیم پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کے مطالبات شامل ہیں۔۔

حکومت نے تمام شرائط مان لیں لیکن نگران سیٹ اپ کا قیام قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بجائے اتفاق رائے سے کرنے کا مطالبہ ڈیڈ لاک کا سبب بنا۔۔ آئنی ترمیم میں تبدیلیوں پر ایم کیو ایم نے تحفظات ظاہر کئے ہیں۔۔

کراچي ائيرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ نگراں حکومت پر تمام جماعتوں سے مشاورت ہونی چاہئے۔۔۔

ایم کیو ایم اور حکومت کے دیگر اتحادیوں نے آئنی ترمیم کیلئے اپنی حمایت کو نئے صوبوں کے قیام اور یکساں نصاب تعلیم سے مشروط کر دیا ہے۔ لیکن حکومتی حلقے پر امید ہیں کہ ماضی کی طرح اتحادیوں کو منا لیا جائے گا۔۔۔ سماء

Please click ‘Video’ button to watch this news.

کے

کو

دی

Cup

promise

Tabool ads will show in this div