بڑے ایوان کا بڑا فیصلہ،وزیراعظم گیلانی پرفردجرم عائدکردی گئی

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کردی۔ لیکن وزیر اعظم نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو دستاویزی شہادتیں سولہ فروری تک جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور وزیراعظم کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے سماعت بائیس فروری تک ملتوی کردی۔

وزیر اعظم کو این آر او کیس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے سبب توہین عدالت کی فرد جرم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 


جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ وزیر اعظم گیلانی کو روسٹرم پر بلاکر فرد جرم عائد کی گئی۔ جسٹس ناصر الملک نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے سوئس عدالتوں کو خط نہ لکھ کر عدالت کی حکم عدولی کی۔

وزیر اعظم نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیس میں اپنا دفا ع کریں گے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو آرڈر ستائیس قاعدہ نمبر سات کے تحت پراسیکیوٹر مقرر کردیا اور کہا کہ گواہوں کی فہرست اور بیانات حلفی جمعرات سولہ فروری تک جمع کرا دیئے جائیں۔

وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ اٹھارہ فروری کو لندن جا رہے ہیں اور اکیس فروری کو واپس آئیں گے۔ انہوں نے استدعا کی کہ جواب کیلئے بائیس  فروری تک مہلت دی جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو سولہ  فروری تک دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ بائیس فروری کو عدالت ان کا جائزہ لے گی۔

وزیراعظم ستائیس فروری تک شہادتیں جمع کرائیں گے۔ اٹھائیس فروری کو عدالت ان شہادتوں کا جائزہ لے گی۔ اور اسی دن وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوگا۔ سماء

کا

convicts

responsibility

Tabool ads will show in this div