اینگری مین

May 02, 2016

acting

تحریر: شاہد شاہ 

سب سے آسان پرفارمنس غصے کی ایکٹنگ کرنا ہے، جس کا بڑا ثبوت پاکستانی پنجابی فلمیں ہیں، جن میں ہیروئن ناچ گا کر ہیرو کے صدقے واری جا رہی ہوتی ہے، لیکن ہیرو پر ناراضی اور غصے کا دورہ پڑا دکھائی دیتا ہے، پہلے اس فن میں سلطان راہی کا کوئی ثانی نہ تھا بعد میں شان نے اس روایت کو زندہ رکھا۔ معلوم نہیں کہانی کے مطابق ہیروئن کے ساتھ دوطرفہ محبت کے باوجود ہیرو گیتوں کے دوران حریفانہ طرزعمل کیوں اختیار کرتاہے۔

خاصے غور و خوض اور مشاہدے کے بعد پتہ چلا کہ ہیرو اگر غصہ نہ دکھائے تو اسے ہیروئن کے مقابلے میں برابر کی چوٹ پر پرفارم کرنا پڑتا ہے۔ بیچاری ہیروئن کو قہر آلود نگاہوں کے بجائے تحسین بھری نظروں سے دیکھنا اور رقص میں اس کا ساتھ دینا آسان کام نہیں، اس لئے سو سُنار کی ایک لوہار کی مصداق ہیرو نے ایک ہی ادا سے کام چلا لیا۔ ہیروئن ناچتی کودتی ہیرو کی طرف آتی ہے لیکن وہ ستمگر روٹھا ہوا منہ لیکر کبھی ایک اور کبھی دوسری طرف نکل جاتا ہےاورہیروئن ہر گیت میں موصوف کو منانےکااندازاپنانے پرمجبور ہوتی ہے۔ اصل میں مار دھاڑ کیلئے بھرتی کئے گئے ہیرو رومانٹک اداکاری سے نابلد ہونے کی بنیاد پر خود کو اینگری مین کے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔

پاکستان کا سیاسی منظر بھی پنجابی فلموں اور اس کے گیتوں سے کم نہیں، اپوزیشن رہنماؤں کا پارہ کسی طور بھی نیچے نہیں آتا، حکومت انہیں شیشے میں اُتارنے کی لاکھ کوششیں کرے لیکن غصے سے پھنکارتی حزبِ اختلاف پر ایک ہی موڈ طاری ہے، عوام سوچتے ہیں کہ ملک چل رہا ہے تو حکومت کُچھ اچھے کام بھی کر ہی رہی ہوگی لیکن مخالفین ہر معاملے میں انگارے اُگل کرحکومتی کارنامے جلا کر خاک کر ڈالتے ہیں۔ اعتدال پسند اپوزیشن لیڈر بھی سرکار پر پیار کی ایک نظر تک نہیں ڈالتے اوراحتیاطًا برہم ہی رہتے ہیں۔

Ik Best Sots 2400 01-05

موجودہ سیاست کے اینگری مین عمران خان کو روئے زمین پر سرکار کی کوئی بات نہیں بھاتی،وہ دور کی کوڑی لاتے ہیں، ہر وقت غصے میں رہتے ہیں۔ گوکہ حکومت بھی عوام پر کوئی پھول نہیں برسا رہی لیکن کپتان کی ہر گیند باؤنسر یا بیمر ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کی کوتاہیوں کے جواب میں کبھی مسئلے کا حل پیش نہیں کیا صرف تنقید کے نشتر ہی چلائے ہیں۔ تعلیم، صحت اور انصاف کے شعبے میں حکومت عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہے تو کبھی خان صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ان شعبوں میں عوامی اعتماد کیسے جیت پائیں گے۔

IK ON LEADER PKG 02-05

اینگری مین میٹرو بس اورنج ٹرین یا سڑکیں بنانے پر حکمرانوں کے خلاف شعلہ بیانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، کپتان شاید یہ نہیں جانتے کہ میٹرو پر سفر کرنے والے لوگ اُن کی بات کس بُری طرح سے رد کر دیتے ہیں، میٹرو بس سروس نے عام آدمی کو وی آئی پی کے برابر لا کھڑا کیا، نئی نسل کو ایک نیا کلچر میسر آیا، لاہور اور اسلام آباد اور راولپنڈی میں لڑکے لڑکیوں کا لائف اسٹائل ہی بدل گیا اور انہوں نے ترقی یافتہ ملکوں کے ماحول کو چھو لیا۔مزدورطبقہ جب برقی سیڑھیوں پر نمودار ہوتا ہے اور ائیرکنڈینشنڈ بس کا لطف اُٹھاتا ہے تو بڑا خوشنما منظر ہوتاہے۔ طالبات اور خواتین میں ایک نیا اعتماد پیدا ہوا ہے، وہ پورے استحقاق سے ایک محفوظ ماحول میں آزادانہ طریقے سے نقل و حرکت کرتی ہیں۔

Imran-Khan-and-Nawaz-Sharif-680x408

عوامی سہولت کی مخالفت کو سیاسی اناڑی پن ہی کہا جا سکتا ہے،ورنہ اگرایک اجتماعی بھلائی کا منصوبہ ہے تواس پرتنقید کے بجائے عوام کو اپنے دور میں مزید سہولتوں کی خوشخبری سُنانی چاہئے، لیکن ان دنوں تو پاکستانیوں کے کان احتجاج دراحتجاج کی آوازیں سُن سُن کر پک چکے ہیں، پانامہ لیکس ہو یا کوئی اور معاملہ، ہر ایشو کو سلجھے ہوئے اور سنجیدہ انداز سے بھی منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مگر مولا جٹ اسٹائل اپنا کر اور ایشوز پر من مانا اسٹینڈ لیکر کپتان تبدیلی کے خواہاں بہت سے ساتھیوں کو حکمران جماعت کی جانب دھکیل رہے ہیں

IMRAN KHAN

angry

Pakistan Politics

Tabool ads will show in this div