کم عمری میں ڈرائیونگ،قصوروارکون؟

driving 1 تحریر : شاہد حسین بائيس اپريل کي رات موٹر سائيکل پر سوار دو لڑکوں کو ايک بے قابو گاڑي نے ٹکر ماري ۔ جس سے ان کی موقع پر موت ہوگئی، گاڑي ايک پندرہ سولہ سال کا لڑکا چلا رہا تھا جسکا نام ابراہیم عرفان تھا، اس کے ساتھ ہم عمر لڑکی بھی تھی، لوگوں نے اسے فرار ہونے سے روکے رکھا اور گرفتار کرا ديا۔ چھبيس اپريل کو ابراہيم عرفان کو ريمانڈ کے ليے کينٹ کچہري لايا گيا۔ کمرہ عدالت ميں ايک بزرگ موجود تھے جو مقتول عبداللہ کے چچا تھے، مجسٹریٹ کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ عبداللہ کے والد کو کينسر ہے اور چلنے پھرنے کی سکت نہيں رکھتے۔اس لیے کیس کی پیروی وہ کریں گے۔ چچا کي آوازغمگین ضرور تھی ليکن غصہ باالکل نہ تھا۔ جب وہ بولنا شروع ہوئے تو لگا جیسے اس واقعے کے کئی قصور وار ہیں۔ چچا نے پہلا مطالبہ ملزم ابراہيم کے ميڈيکل کا کيا۔ "يہ کام پوليس کا تھا۔ اسي وقت ميڈيکل کرانا چاہيے تھا تاکہ معلوم ہوتا کہ لڑکے نے کوئي نشہ وغيرہ تو نہيں کيا تھا"۔ اسي دوران جب ملزم کي جانب سے کم عمري کا سرٹيفکيٹ پيش کیا جانے لگا تو چچا نے کہا کہ لڑکے کي عمر کے تعين کے ليے بھي طبی معائنہ ہونا چاہيے۔ ہو سکتا ہے يہ سرٹيفيکيٹ بھي جھوٹ ہوں۔ چچا بولے "اگر مان بھي ليں کہ لڑکا کم عمر تھا تو بغير لائسنس گاڑي سڑک پر لانے کي ذمہ داري کس پر عائد ہوتي ہے۔ يہ ملزم کے والد کا بھي قصور ہے جنہوں نے بغير لائسنس بچے کو گاڑي دے دي۔ بچے کے والد کو بھي ملزم بنانا چاہيے"۔ مجسٹريٹنے چچا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابراہيم عرفان کے ميڈيکل کا حکم تو دے سکتے ہیں ليکن والد کو ملزم نہيں بنا سکتے کيونکہ گاڑي چلانے کا الزام صرف لڑکے پر ہے۔ چچا کي مختصر بات سے يوں لگ رہا تھا کہ ان اموات کے کئي زمہ دار ہيں۔ وہ پوليس اہلکار جو ايسے موقع پر ملزمان کافوري ميڈيکل نہ کروا کر ایک کمزور کيس کي بنياد رکھنے کے مرتکب ہوئے۔دوسرے نمبر پر وہ گھر والے جن کے بچے کم عمری میں ہی بغير لائسنس گاڑي اور موٹر سائيکل چلانا شروع کر ديتے ہيں۔ تیسرے نمبر پر ٹریفک پولیس جن کي ذمہ داريٹريفک قوانين پر عملدرآمد کو يقيني بنانے کی ہے۔ اور آخر میں کمزور سزائیں جو خلاف ورزیاں روکنے کی سکت نہیں رکھتیں۔ والدین کی غیر ذمہ داری ہمارے معاشرے ميں ايسے لوگوں کي کمي نہيں جو اپنے بچوں کو اٹھارہ سال کي عمر ميں پہنچنے سے پہلے ہي موٹرسائيکل لے ديتے ہيں۔  یا سالگرہ کے تحفے میں بچوں کو نئی گاڑی کی چابی لے دیتے ہیں۔ پھر خاندان بھر ميں شيخيبگھارتے  نظر آتے ہيں کہ انہوں نے اپنے بيٹے کو تيرہ چودہ سال کي عمر ميں گاڑي چلانا سکھادي۔  جو لوگ صبح گھر سے نکلتے ہیں انہوں نے اکثر یہ منظر دیکھا ہو گا کہ سگنل سرخ ہوا۔ لیکن موٹر سائیکل یا گاڑی پر بچوں کو سکول چھوڑنے کے جانے والے کئی والدین اس پر رکنے کی بجائے نکل جاتے ہیں۔ جب والدين خود ہي ٹريفک قوانين پر عمل نہ کريں تو بچےکيسے کر سکتے ہيں۔ سکول ايسے بچوں کو کتابي علم تو دے سکتا ہے ليکن تربيت نہيں کر سکتا۔ driving 2 انتظامی کمزوری نيوکيلس اکيومبينس ايک ايسا عضو ہے جسکا کام انساني جسم ميں نشاطی  احساسات پيدا کرنا ہوتاہے۔ نوعمري تک يہ اپنے عروج پر کام کرتا ہے اسليے اس نوعمري ميں لطف اندوزي خطرے سے زيادہ اہميت رکھتي ہے۔ اس لیے عمر کو پہنچنےسے پہلے ہي نو عمر سڑکوں پر اوور سپيڈنگ اور کرتب کرتے نظر آتے ہيں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لائسنس کے لیے عمر کی حد اٹھارہ سال مقرر کی گئی ہے تاکہ ڈرائیورز میں پختگی ہو اور سڑک پر خطرے کو  محسوس کریں اور احتیاط برتیں۔ driving 3 ٹریفک پولیس کا کردار ٹريفک وارڈنز کو گاڑي ميں موبائل فون سنتے ہوئے لوگ تو نظر آجاتے ہيں ليکن کم عمر يا بچے ڈرائيور اکثر نظر نہيں آتے۔ٹريفک وارڈنز کی توجہ بغير ہيلمٹ موٹر سائيکل يا سيٹ بيلٹ کے بغير ڈرائيورز کا چالان کرنے پر ہوتی ہے ليکن ايسا کم ہيہوتا ہے کہ پوليس کم عمر ڈرائيورز کو سڑک پر آنے سے روک سکیں۔   ڈرائیونگ لائسنس اگر سروے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ لوگوں کی بڑی تعداد بغیر لائسنس ہی ڈرائیونگ کرتی ہے۔ دوسرے ممالک کی نسبت ہمارے ملک میں ڈرائيونگ لائسنس بننے کا عمل بھی مذاق سے کم نہیں۔ لائسنس کے حصول کے ليے ايک چھوٹا سا ٹيسٹ ليا جاتا ہے جو کوئي بھي گاڑي چلانے والا باآساني پاس کر سکتا ہے۔ محکمے ميں جان پہچان رکھنے والوں کو تو اس ٹیسٹ کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ ايک ہي دن ميں ڈرائيونگ لائسنس جاري ہو جاتا ہے۔ جو چيز آساني سے مل جائے اس کي قدر بھي نہيں ہوتي۔ کمزور سزائیں driving 4دوسرے ملکوں میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کا کوئی تصور نہیں۔ کیونکہ پکڑے جانے پر جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔ لیکن پاکستان میں سزائیں بھی بہت معمولی ہیں۔ لاہور سٹي ٹريفک پوليس کي ويب سائٹ کے مطابق بغير لائسنس گاڑي چلانےکي سزا صرف 500 روپے جرمانہ ہے۔ اور اگر ڈرائيور کي عمر اٹھارہ سال سے کم ہے تو اسکي سزا بھي پانچ سو روپےجرمانہ ہے۔ اگر موٹرسائیکل ہو تو  جرمانہ  صرف دو سو روپے ۔ جو کوئی بھی پکڑا جانے والا باآساني ادا کر کے چلا جاتا ہے۔ چونکہ کم عمر بچے نہ کاغذات دکھا سکتے ہیں اور نہ ہی چالان کے لیے شناختی کارڈ یا لائسنس رکھوا سکتے ہیں۔ اسی لیے ٹریفک اہلکار انہیں کم ہی پکڑتے ہیں۔ سماء

PUNJAB

DRIVING

Fake licenses

Young Drivers

Under Age

certificate

Tabool ads will show in this div