عزیربلوچ سےجےآئی ٹی کی تفتیش،197افرادکےقتل کااعتراف

Apr 27, 2016

UZAIR FINAL 30-04

کراچی: لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ سے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹٰیم نے تفتیش مکمل کرلی۔ تفتیش کے مطابق عزیر بلوچ 197 افراد کے قتل میں ملوث ہے۔ دوران تفتیش عزیر بلوچ نے کئی راز اگل دیئے۔

عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق عزیرنےبالواسطہ یا بلاواسطہ 197قتل کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔عزیر بلوچ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف 65 مقدمات درج ہیں۔اس نے دوران تفتیش شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں تاجروں کےاجتماعی قتل کااعتراف بھی کیا ہے۔

عزیر بلوچ ڈالمیا سے تعلق رکھنے والے حاجی اسلم اور اس کے پانچ بیٹوں کے اجتماعی قتل میں بھی ملوث رہا۔ارشد پپو سمیت تین افراد کے اغوا اور قتل کی واردات میں بھی شامل رہا۔ارشد پپو کے اغواء میں عزیر بلوچ نے اپنی دو گاڑیاں دی تھیں۔ارشد پپو کے اغواء اور قتل میں کلری تھانے کی پولیس موبائل بھی استعمال کی گئی۔

ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ سعید جان بلوچ کوفشرمین کوآپریٹوسوسائٹی کا چیئرمین لگوایا۔سعید جان بلوچ ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ فراہم کرتا تھا۔

دوران تفتیش مزید بتایا گیا ہےکہ سابق ٹاؤن ایڈمنسٹریٹرلیاری محمد رئیسی ہر ٹھیکے میں سے 20فیصد رقم فراہم کرتا تھا۔عزیرنے بھتہ خوری اوراغوا برائے تاوان سے حاصل رقم بیرون ملک بھی بھجوائی۔  سماء

JIT

lyari gang war

Tabool ads will show in this div